صفحات

Tuesday, 7 April 2026

سزائے موت نہ دل کو رہائی دیتا ہے

 سزائے موت نہ دل کو رہائی دیتا ہے

جو اُس کا ہو وہ مسلسل دہائی دیتا ہے

میں سات دن ہی رہا ہوں مگر بہت خوش ہوں

کسی کسی کو وہ دل تک رسائی دیتا ہے

جسے خدا نہیں دِکھتا وہ تم سے آ کے ملے

تمہاری آنکھ سے وہ بھی دکھائی دیتا ہے

وہ نیند میں بھی مجھے دیکھتا ہے اٹھ اٹھ کر

جبیں پہ بوسہ بدن پر رضائی دیتا ہے

اُسی کے پاس ہیں سب چابیاں مِرے دل کی

وہ خود کو چھوڑ کے سب کو رہائی دیتا ہے

لگے جو آنکھ وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں

وہ مجھ کو خواب میں اب تک دکھائی دیتا ہے

بس ایک میں نہیں چھاوُں میں منتظر تیرا

اداس پیڑ بھی تجھ کو دُہائی دیتا ہے

ہر ایک چاہنے والے کا تجربہ ہے عمیر

ذرا سا قُرب مُسلسل جُدائی دیتا ہے


عمیر مشتاق

No comments:

Post a Comment