صفحات

Thursday, 30 April 2026

اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

  اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

میں اپنے آپ سے انکار کر کے آیا ہوں

مجھے خبر ہے کہ یہ پیاس مار ڈالے گی

مگر میں آب کو دُشوار کر کے آیا ہوں

بچا بچا کے رکھا تھا جسے زمانے سے

وہ گُنبد آج میں مسمار کر کے آیا ہوں

مبادا خواب بکھرنا محال ہو جائے

میں خود کو نیند سے بیدار کر کے آیا ہوں

نہ تیرتی تھی نہ جو ڈُوبتی تھی مُدت سے

حوالے کشتی کو منجدھار کر کے آیا ہوں

مِرا قصور بس اتنا ہی سا تو ہے ایوب

کہ ڈُوبتے کو میں اس پار کر کے آیا ہوں


صلاح الدین ایوب

No comments:

Post a Comment