آنسو بھری آنکھوں کے دھندلکے نہیں جاتے
کچھ ایسے مناظر ہیں کہ دیکھے نہیں جاتے
دیکھو تو کئی عکس نظر آتے ہیں اِن میں
ٹوٹے ہوئے آئینے خریدے نہیں جاتے
رُک رُک کے چلے آنکھ سے اشکوں کے مسافر
بے گانگی اتنی ہے اکٹھے نہیں جاتے
سورج کے نکلنے میں ابھی دیر ہے، ٹھہرو
تصویر کی تکمیل سے پہلے نہیں جاتے
سنتے ہیں کہ شب بھر یہاں روتی رہی شبنم
آنسو ہیں کہ پھولوں سے سنبھالے نہیں جاتے
کچھ نوٹ مہکتے ہیں سدا جیب میں فرحان
چلتے نہیں بازار میں، خرچے نہیں جاتے
فرحان کبیر
No comments:
Post a Comment