صفحات

Sunday, 5 April 2026

ٹوٹے ہوئے آئینے خریدے نہیں جاتے

 آنسو بھری آنکھوں کے دھندلکے نہیں جاتے

کچھ ایسے مناظر ہیں کہ دیکھے نہیں جاتے

دیکھو تو کئی عکس نظر آتے ہیں اِن میں

ٹوٹے ہوئے آئینے خریدے نہیں جاتے

رُک رُک کے چلے آنکھ سے اشکوں کے مسافر

بے گانگی اتنی ہے اکٹھے نہیں جاتے

سورج کے نکلنے میں ابھی دیر ہے، ٹھہرو

تصویر کی تکمیل سے پہلے نہیں جاتے

سنتے ہیں کہ شب بھر یہاں روتی رہی شبنم

آنسو ہیں کہ پھولوں سے سنبھالے نہیں جاتے

کچھ نوٹ مہکتے ہیں سدا جیب میں فرحان

چلتے نہیں بازار میں، خرچے نہیں جاتے


فرحان کبیر

No comments:

Post a Comment