صفحات

Sunday, 19 April 2026

آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

 قومی یکجہتی


آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

بجھ گئے ہیں جو دِیے ان کو جلایا جائے

پیار کے نقش کو تابندہ بنایا جائے

دیش سے فرقہ پرستی کو مٹایا جائے

جس کے دامن میں مہکتے تھے اصولوں کے گلاب

دوستو! پھر وہی ماحول بنایا جائے

جن کے کردار بنیں عظمتِ انساں کے حریف

ایسے افسانوں کو اب بھول بھی جایا جائے

آؤ سب چلیں امن کا پرچم لے کر

فرقہ وارانہ فسادوں کو مٹایا جائے

چشتی و نانک و گوتم نے جو پیغام دیا

اے پیام اس پہ عمل کر کے دکھایا جائے


پیام سیہالوی

محمد شفیق

No comments:

Post a Comment