صفحات

Wednesday, 22 April 2026

میری فریاد کے انداز اڑائے کس نے

 مصرعۂ طرح  پر ایک غزل کے چند اشعار 

"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"


میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے 

ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے 

قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب 

حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے 

دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ 

یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے 

خُوب دِکھلائے کمال آج میاں خلقؔ نے بھی 

لوگ کہتے ہیں غزل یہ کسی اُستاد کی ہے 


نواب بہادر یار جنگ

اصل نام؛ محمد بہادر خان

تخلص؛ خلق

No comments:

Post a Comment