صفحات

Monday, 6 April 2026

حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی

 دوستی میں دل جو ٹوٹا دشمنی اچھی لگی

روشنی میں لٹ گئے تو تیرگی اچھی لگی

دیکھ کر اونچے مکانوں میں امیروں کے چلن

ہم کو اپنی جھونپڑی میں مفلسی اچھی لگی

زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر

حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی

خیر سے اس کی جواں بیٹی جو رخصت ہو گئی

آج برسوں بعد اس کو نیند بھی اچھی لگی

تھا ہمارے ساتھ منزل کا تصور اے شکیل

دوپہر کی چلچلاتی دھوپ بھی اچھی لگی


فاروق شکیل

No comments:

Post a Comment