اے شہرِ کراچی تِری گلیوں کی بہاریں
اک دیدۂ بیدار کو ہر گام پکاریں
ہاتھوں میں تِرے پیار کی مہندی کو رچائیں
اے وقت کی دیوی! تِری زلفوں کو سنواریں
سرمست کریں رقص دھنک رنگ فضا میں
تنہا کسی وادی میں کوئی رات گزاریں
ماتھے پہ سجائیں تِرے اک نُور کا جھومر
اے شاہدِ ہستی! تِرے جلووں کو نکھاریں
اے ولولۂ شوق! قدم اور ذرا تیز
یہ عشق کی بازی کبھی جیتیں کبھی ہاریں
آؤ کہ زیارت کو چلیں آج تو اے فیض
کرتی ہیں اشارے ہمیں یادوں کی مزاریں
فیض تسنیم تونسوی
No comments:
Post a Comment