جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو
دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو
ترکِ الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک
ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو
چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے
جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو
سوچ لینے سے غزل ساختہ ہو جاتی ہے
وہ غزل پیش کرو جس کو سنوارا ہی نہ ہو
لوگ تجّارِ زمانے میں بہت ہیں اب بھی
سوچتے ہیں جو محبت میں خسارا ہی نہ ہو
زندگی چاہیے سیراب نظر کرنے کو
ورنہ اک آدھ جھلک سے تو گُزارا ہی نہ ہو
عابدی ٹُوٹتے تارے نظر آئے ہیں مجھے
یہ زمیں چھوڑ کے جانے کا اشارا ہی نہ ہو
خواجہ علی حسین عابدی
No comments:
Post a Comment