صفحات

Wednesday, 22 April 2026

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

 ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی

بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر

جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی

قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں

قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی

نہیں تھی قدر کبھی میری حسرتوں کی اسے

یہ اور بات کہ اب وہ بھی بے قرار لگی

مدد کا ہاتھ نہیں ایک بھی بڑھا تھا مگر

عجیب دور کہ بس بھیڑ بے شمار لگی


سنجو شبدتا

No comments:

Post a Comment