صفحات

Thursday, 9 April 2026

میں نے گلہ مطالبہ فریاد سب کیا

 میں نے گِلہ، مُطالبہ، فریاد سب کِیا

اس کو مگر جو کرنا نہ تھا اس نے کب کیا

بزمِ تصوّرات میں ان کو طلب کیا

میں نے یہ اہتمام تو جب چاہا تب کیا

چھوڑا کبھی نہ دامنِ اخلاق ہاتھ سے

دُشمن بھی گھر پہ آیا تو ہم نے ادب کیا

ہم ہر جگہ اصول کے پابند ہی رہے

پہلے کسی نے وار کیا ہم نے تب کیا

سب جانتے تھے کوئی مگر بولتا نہ تھا

اے راز! تم نے کہہ کے بتایا غضب کیا


غلام حسین راز بالاپوری


No comments:

Post a Comment