صفحات

Thursday, 2 April 2026

کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

 کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا

لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا

خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا

سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو

تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا

یہ دن گزار رہے ہیں یہ کیسے لوگ یہاں

نئے مزاج کے سانچے میں ڈھل کے دیکھ ذرا

یہ کیسے کیسے عجیب و غریب منظر ہیں

کبھی تو دشت بلا میں ٹہل کے دیکھ ذرا

کہیں دبوچ نہ لے تجھ کو اپنی بانہوں میں

بپھرتی ندی کو آتش سنبھل کے دیکھ ذرا


قربان علی آتش

No comments:

Post a Comment