صفحات

Thursday, 16 April 2026

لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا

 تنہا گزارتا ہوں اپنے گھر میں روز شپ

میرے لیے مرا گھر زنداں نہیں ہوا

اے دوست اِس بےحد جدید دور میں

لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا

شیخ کو دھاندلی والے شاہ کی پڑی

گاؤں میں کوئی بھی حیراں نہیں ہوا

ڈوبتی چیونٹی نہیں، تنکہ ہے محترم

سب یہ دیکھتے رہے، انساں نہیں ہوا

گرگٹ کی صورت رنگ بدلتا رہا وہ شخص

حیرت ہے پھر بھی چہرا نمایاں نہیں ہوا

حق پر جو ڈٹے تو پڑا رشتوں میں خلل

اس بات پر عارف کبھی پیشماں نہیں ہوا


عارف اصفہانی

No comments:

Post a Comment