تنہا گزارتا ہوں اپنے گھر میں روز شپ
میرے لیے مرا گھر زنداں نہیں ہوا
اے دوست اِس بےحد جدید دور میں
لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا
شیخ کو دھاندلی والے شاہ کی پڑی
گاؤں میں کوئی بھی حیراں نہیں ہوا
ڈوبتی چیونٹی نہیں، تنکہ ہے محترم
سب یہ دیکھتے رہے، انساں نہیں ہوا
گرگٹ کی صورت رنگ بدلتا رہا وہ شخص
حیرت ہے پھر بھی چہرا نمایاں نہیں ہوا
حق پر جو ڈٹے تو پڑا رشتوں میں خلل
اس بات پر عارف کبھی پیشماں نہیں ہوا
عارف اصفہانی
No comments:
Post a Comment