صفحات

Friday, 1 May 2026

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے

 اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی دروازہ کھلے

ہر طرف درد کے لمبے سائے

راستے پھیل گئے دور گئے

دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز


اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی محجوب نظارہ ابھرے

اور مجبور فقیروں کی طرح

ہر قدم چلتی ہے دستک دستک

ہر نفس ایک نئی راہ ہر اک سمت میں بھاگی لیکن

جس طرح وصل کا ہر لمحہ جدائی کا سفر


اجنبی راہگزر سوچتی ہے

شاید اب ایسا مقام آ جائے

ہر قدم آپ ہر اک راہگزر ہو منزل

خود بہ خود درد کا ہر لمحہ ہو لطف

اجنبی راہگزر سوچتی ہے

دربدر خاک بسر سوچتی ہے


صدیق کلیم 

No comments:

Post a Comment