صفحات

Saturday, 30 May 2026

یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہوا

 یہ  سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا

یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا

قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ

یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا

مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو

ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا

نگاہِ حسن میں، خود آگہی ہے گستاخی

یہ رمزِ عشق سرِ دار آشکار ہوا

یہ حیرتیں بھی مقدر ہوئی تھیں میرے لیے

خزاں کا نام مِرے عہد میں بہار ہوا

مری زباں، مِرے لہجے پہ لوگ ہنستے ہیں

میں اجنبی ہوں، یہ احساس بار بار ہوا


راز مرادآبادی

No comments:

Post a Comment