صفحات

Friday, 1 May 2026

تری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

 زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں

تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

حقیقت جان لی ہے تیری جب سے

تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں

کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو

مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں

گئے تھے جیتنے دل پھر کسی کا

دل اپنا ہار کر گھر آ گئے ہیں

مِرے رب نے مِری آواز سن لی

مدد میں میری لشکر آ گئے ہیں

نہیں مانگا کبھی ہم نے سہارا

یہاں تک اپنے دَم پر آ گئے ہیں


سپنا مولچندانی

No comments:

Post a Comment