سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام
سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام
کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز
شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام
صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی
صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام
شفقت مزاج رافت و رحمت کا مے کدہ
تلچھٹ بھی کم نہیں ہے مری میکشی کے نام
اپنی مثال آپ تریسٹھ برس کا حسن
کیا کچھ نہ لکھ دیا ہے غمِ عاشقی کے نام
اے چارہ ساز امتِ مرحوم دیکھنا
پھر دھر لیے ہیں دنیا نے بے چارگی کے نام
اللہ کی رضا کے چراغوں کی آبرو
تصدیقِ حق کے نام سخی کے ولی کے نام
تم بھی رئیس شہرِ سخن ہو تو جان لو
لوح و قلم کا حسن ہے دریا دلی کے نام
رئیس الشاکری
No comments:
Post a Comment