صفحات

Tuesday, 2 June 2026

سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام

 سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام

سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام

کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز

شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام

صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی

صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام

شفقت مزاج رافت و رحمت کا مے کدہ

تلچھٹ بھی کم نہیں ہے مری میکشی کے نام

اپنی مثال آپ تریسٹھ برس کا حسن

کیا کچھ نہ لکھ دیا ہے غمِ عاشقی کے نام

اے چارہ ساز امتِ مرحوم دیکھنا

پھر دھر لیے ہیں دنیا نے بے چارگی کے نام

اللہ کی رضا کے چراغوں کی آبرو

تصدیقِ حق کے نام سخی کے ولی کے نام

تم بھی رئیس شہرِ سخن ہو تو جان لو

لوح و قلم کا حسن ہے دریا دلی کے نام


رئیس الشاکری

No comments:

Post a Comment