یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا
چھلکتا برستا ہوا جام 🍷 لانا
یہ وقتِ قبولِ دُعائے سحر ہے
ذرا بچ کے ہاتھوں سے دامن بچانا
غرورِ تغافل کے انداز والے
تِرا امتحاں ہے مِرا آزمانا
لبوں پر مِرا دم ہے بن کر تبسّم
کہ آتا ہے یوں بھی مجھے مسکرانا
نظر ہو تو ذوقِ نظر بھی ہو کیفی
نہیں دل تو آنکھوں کا کیا ہے ٹھکانا
کیفی چریاکوٹی
No comments:
Post a Comment