صفحات

Tuesday, 7 July 2026

درد کی اک کتاب ہے کوئی

 درد کی اک کتاب ہے کوئی

زندگی اضطراب ہے کوئی

تیرگی کی ادا بتاتی ہے

داؤں پر ماہتاب ہے کوئی

ہو گیا جس کو وہ ہوا تنہا

عشق بھی اک عذاب ہے کوئی

تیری جانب ہی کھینچ لاتی ہے

یاد جیسے سراب ہے کوئی

اس کا خاموش دیکھنا بھر ہی

اک مکمل جواب ہے کوئی

جی رہا ہے مگر نہیں جیتا

یوں بھی خانہ خراب ہے کوئی

ہائے تحریر اس کی آنکھوں کی

گو کہ مشکل کتاب ہے کوئی

تو میرے سامنے رہے پھر بھی

میں سمجھتی ہوں خواب ہے کوئی

تشنگی اور بڑھتی جاتی ہے

تیری قربت سراب ہے کوئی


پونم یادو

No comments:

Post a Comment