صفحات

Thursday, 30 July 2026

پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں

 پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں

تُو ہی بتا اے گردشِ ایام! کیا کریں

اک پَل کو لب پہ آئی ہنسی پھر پلٹ گئی

یاد آ گیا ہو جیسے کوئی کام کیا کریں

ہر آرزُو کے ہونٹ زمانے نے سی دئیے

بُجھنے لگا چراغ سرِ  شام کیا کریں

ڈر ہے کہ تیرے ہاتھ سے ساغر نہ چھین لیں

ہم تشنہ لب اے ساقیٔ گُلفام کیا کریں

رُخ پر کلی کے جب پڑی تھرّا گئی نظر

دیکھا ہے ہر بہار کا انجام کیا کریں

سیماب ہم کو چین ملے گا نہ عُمر بھر

ہم تو ہیں اضطراب میں بدنام کیا کریں


سیماب سلطانپوری

دھرم ویر دھیر

No comments:

Post a Comment