صفحات

Saturday, 29 August 2026

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے

 اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے

کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے

میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی

میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے

نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا

دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے

برگِ حِنا سے لِکھ کے نصیحت زمین پر

گُلشن کو تیرے چھوڑ کے اوراق چل پڑے

رشتوں کے احترام کی جن کو نہ تھی تمیز

دامن میں اپنے باندھ کے آفاق چل پڑے

تیری نگاہ ناز نے ایسا فسُوں پڑھا

دیوانے ہو کے دنیا سے اشفاق چل پڑے

میں نے چراغ عشق جلائے تھے جو ندیم

ہمراہ میرے چھوڑ کے سب طاق چل پڑے


نرمل ندیم

No comments:

Post a Comment