عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الفاظ بھی اگرچہ ہیں اظہار کے سبب
بنتی ہے بات چشم گہر بار کے سبب
احساس کے دریچے پہ دستک ہے نعت کی
ورد درودﷺ و کثرت اذکار کے سبب
نور سحر میں چہرۂ انورﷺ کی ہے ضیا
شب ہے نبیﷺ کی زلف طرحدار کے سبب
دل میں سکون و نورکا رہتا ہے امتزاج
یاد و خیال سید ابرارﷺ کے سبب
جور خزاں سے جس کا بچا تھا بس ایک نخل
مہکی ہے یہ فضا اسی گلزار کے سبب
اس پر نثار کر دوں میں اپنی متاع جاں
جو بھی بتائے آقاﷺ کے دیدار کے سبب
یوں ہی کفیل ان کی ثنا میں گزار دو
جنت ملے گی الفت سرکارﷺ کے سبب
کفیل فتحپوری
No comments:
Post a Comment