صفحات

Tuesday, 18 August 2026

گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں

 گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں 

عشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواں 

ہائے وہ چند ساعتیں گزریں جو تیرے قُرب میں 

رشک سے دیکھتی رہی جن کو حیات جاوداں 

اف ری منازل بلند تیرے حریم ناز کی 

پائے طلب کو کتنے طے کرنے پڑے ہیں آسماں 

برق کی دسترس سے دور عصر نو کے اے طیور 

اور بلند آشیاں اور بلند آشیاں 

گرم حصول جوئے شیر ہاں یوں ہی مرد تیشہ گیر 

تیشہ زنی ہے دہر میں اصل حیات کامراں 

محتسب شراب تو بزم جہاں میں ہیں بہت 

یہ بھی کہو کہ ہے کوئی محتسب غم نہاں 

جذبۂ ہمت اے نہال جب ہو مِرا شریک حال 

میرے لبوں پہ آئے کیوں شکوۂ گردش زماں 


نہال سیوہاروی

No comments:

Post a Comment