صفحات

Friday, 7 August 2026

پھول ہے نہ خوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

 پھُول ہے نہ خُوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

زندگی حقیقت میں حادثوں کا سنگم ہے

آپ ہی بتائیں اب، کون سا یہ عالم ہے؟

دوستی کے ہاتھوں میں دُشمنی کا پرچم ہے

پھیلتے اندھیروں میں، بے رُخی کے جھونکوں سے

آج کل وفاؤں کا ہر چراغ مدھم ہے

آدمی تو بستے ہیں ان گِنت یہاں، لیکن

کوئی دورِ حاضر میں رام ہے نہ گوتم ہے

دیکھ کر بھی جیسے وہ دیکھتے نہیں مجھ کو

پیار کا وہ اک رِشتہ آج تک بھی قائم ہے

موت سے کنول مجھ کو خوف ہو تو کیونکر ہو

موت عارضی ٹھہری، زندگی تو پیہم ہے


ڈی راج کنول

پنڈت دیس راج شرما

No comments:

Post a Comment