لے کہیں دُور چل اے غمِ دل مجھے
راس آئی نہیں تیری محفل مجھے
گُزرے ہیں دن جسے دیکھتے دیکھتے
دیکھتا ہی نہیں اب وہ قاتل مجھے
دل کی دُنیا کا عالم بتا دوں بھلا
پاس کچھ بھی نہیں سب ہے حاصل مجھے
ڈُوبتا ہی رہا، اور خاموش تھا
دیکھتا رہ گیا دیر ساحل مجھے
یہ صدا دے رہا کون احسن بتا
راہ کیسی دکھائی ہے منزل مجھے
کاشف احسن
No comments:
Post a Comment