صفحات

Wednesday, 5 August 2026

چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

 چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے

میری دم توڑتی امنگوں کو

بخش جینے کا حوصلہ پھر سے

اے دلِ بے قرار کس کے لیے

لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے

مجھ کو اس دشتِ خود نمائی میں

کون دینے لگا صدا پھر سے

زرد پتے ہیں سرد شامیں ہیں

کیا دسمبر ہے آ گیا پھر سے

اپنے اندر تلاش جاری رکھ

خود میں طوفان کر بپا پھر سے

جس میں باطن دکھائی دے عنبر

دل کو کر دے وہ آئینہ پھر سے


فرحانہ عنبر

No comments:

Post a Comment