صفحات

▼

Wednesday, 16 September 2026

ایک موہوم سی خوشی کی طرح

 ایک موہوم سی خوشی کی طرح

تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح

تیرگی کے اداس جنگل میں

ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح

غم دوراں سنوار دوں تجھ کو

اپنے گیتوں کی دلکشی کی طرح

یاد جاناں اتر کے آئی ہے

شب کے زینے سے چاندنی کی طرح

مہرباں ہو کے ساتھ چلتی ہے

زندگی درد زندگی کی طرح

آرزو کا حسیں سویرا بھی

آج ناراض ہے کسی کی طرح

زندگی کا خیال بھی ثاقب

روٹھ جائے نہ زندگی کی طرح


میر نقی علی خاں ثاقب

No comments:

Post a Comment