صفحات

Saturday, 5 September 2026

مرے اس شہر میں کیوں حسن ہے بازار کی وحشت

مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت

جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت

مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت

مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت

عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب

جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت

مِرا یہ عشق بھی چوسر کے مانند چھ کے آنے پر

نہیں جیتا گیا مجھ سے رہی پھر یار کی وحشت

وجہ غُربت تھی میرے اس کے دل میں سے نکلنے کی

وہاں پر یوں امارت تھی یہاں دلدار کی وحشت

مِری یہ عاشقی طوفان میں کب تک سلامت ہے

یہ چھت اب گرنے والی ہے وجہ دیوار کی وحشت

بہت سے شاعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں پر

طلب ہوتی نہیں ان میں بیاں بیزار کی وحشت


نعیم طلب 

No comments:

Post a Comment