صفحات

▼

Saturday, 17 October 2026

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں

 جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں 

دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں 

کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے 

وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں 

جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی 

کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں 

اس سے زیادہ کیا ہو گا اربابِ محبت کا اظہار 

وہ بیکل ہو جاتے ہیں تو سب بیکل بن جاتے ہیں 

ہم نے صدیوں کی دیواروں میں جو رخنے ڈالے تھے 

ان سے گُزرنے والے لمحے تاج محل بن جاتے ہیں


سعید الزماں عباسی

No comments:

Post a Comment