صفحات

▼

Wednesday, 7 October 2026

کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

 کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

حرف سے حرف کو ملا کر دیکھ

جو بھی چادر بچھا کے بیٹھا ہے

اس سے نظریں سبھی ملا کر دیکھ

حیلہ گر ہے کسی ندامت میں

اس کو رستہ کوئی دکھا کر دیکھ

خود پہ ظاہر نہیں ہے جو اک شخص

اس کو مصحف کوئی پڑھا کر دیکھ

کوئی سادہ نہیں جہاں میں اب

خود کو سادہ یہاں بنا کر دیکھ

کوئی بچہ اداس بیٹھا ہے

اس کو تو بھی ذرا ہنسا کر دیکھ

تجھ پہ لازم نہیں ہے اب کوثر

تو بھی پیچھا کبھی چھڑا کر دیکھ


سیدہ کوثر منور شرقپوری

No comments:

Post a Comment