صفحات

▼

Tuesday, 13 October 2026

ظلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

 ظُلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

سُورج کو بے جان بنا کر دیکھ لیا

اب جو لنکا ہار گئے تو رونا کیا

بھیدی کو دربان بنا کر دیکھ لیا

خیر دُعائیں لب پر ہی دم توڑ گئیں

جذبوں کو بھگوان بنا کر دیکھ لیا

دیکھ دیوتا! آخر تیرے کہنے پر

شُعلوں کو مہمان بنا کر دیکھ لیا

ہم تو بے گھر ہو کر بھی اب جی لیں گے

تُو نے تو ایوان بنا کر دیکھ لیا

دل میں سُلگتی آگ ابھی تک باقی ہے

دریا بھی پہچان بنا کر دیکھ لیا

زخم اکیلے پن کا ساجد بھر نہ سکا

صحرا بھی گُنجان بنا کر دیکھ لیا


قمر ساجد

No comments:

Post a Comment