صفحات

▼

Saturday, 17 October 2026

یوں بھی باقی ہیں ابھی جینے کے آثار مرے

 یوں بھی باقی ہیں ابھی جِینے کے آثار مِرے

بسترِ مرگ سے اُٹھے ہیں کئی یار مرے

موجِ اِدراک سے سُورج کی شُعائیں پھُوٹیں

تو نظر آئے کچھ اندیکھے سے کِردار مرے

سینۂ شب پہ مچلتا ہے اُداسی کا بدن

ایک تصویر دِکھاتی یے یہ آزار مرے

ہر نظارے میں چُھپا بیٹھا ہے من کا درپن

کس طرح خُود کو سنبھالے تُو ہُشیار مرے

خواب بازار میں لایا ہوں تجارت کے لیے

سوچ کر کرنا ذرا "سودا" خریدار مرے

اپنی آنکھوں میں تِری پیاس لیے پھِرتا ہوں

اک نظر میری طرف دیکھ تو دِلدار مرے

میں نے لفظوں سے بُنا ہے یوں زمانے کا جال

غور کرنے پہ نظر آئیں گے اشعار مرے


شاہ رخ عبیر

No comments:

Post a Comment