کوئی بتلائے حال ساقی کا
آ رہا ہے خیال ساقی کا
کوئی ثانی نہیں مِلا اب تک
یار اس بے مثال ساقی کا
ہائے کیا خُوب تھا وہ منظر بھی
میرے ہونٹوں پہ گال ساقی کا
اس جُدائی سے خُوش نہیں وہ بھی
میرے جیسا ہے حال ساقی کا
سر جُھکا ہے خُدا کے در مونس
دل میں ہے پر خیال ساقی کا
مونس فراز
No comments:
Post a Comment