آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں
آج روٹھے ہوئے یار کو منانے چلتے ہیں
ہو سکتا ہے فراموش کر دے وہ بے پرواہ
اسے وعدۂ فردا یاد دلانے چلتے ہیں
ایمان پختہ ہو یا خستہ، سزا ملے یا جزا
دہلیزِ یار پہ جبیں جھکانے چلتے ہیں
اسے راضی تو کرنا ہے کسی نہ کسی طرح
جو کچھ بچا ہے وہ بھی لُٹانے چلتے ہیں
آؤ امر کُوئے یار میں پتھر کھانے کے لیے
اپنے جنوں کا تماشہ دکھانے چلتے ہیں
میاں امر
No comments:
Post a Comment