صفحات

Saturday, 11 January 2014

ساحل پر

ساحل پر 

اب تو نظروں سے چُھپ چکا ہے جہاز
اُڑ رہا ہے اُفق کے پار دُھواں
اب وہ آئیں نہ آئیں کیا معلوم
جانے والوں کا اعتبار کہاں
وقتِ رُخصت وہ رو دیے ہیں جب
میں نے مشکل سے اشک روکے تھے
مُسکرا کر کہا تھا، غم نہ کرو
تم بہت جلد لوٹ آؤ گے
لیکن اب جبکہ رو رہا ہوں میں
آ کے ڈھارس مری بندھائے کون
وہ مجھے چھوڑ جائیں، ناممکن
وہ چلے بھی گئے، بتائے کون 

ابن انشا

No comments:

Post a Comment