صفحات

Saturday, 11 January 2014

تخیل ہے، خدا ہے کیا بلا ہے

تخیّل ہے، خدا ہے، کیا بلا ہے
نہیں کچھ بھی نہیں ہے، آئینہ ہے
تمہیں پہلے بتانا چاہئے تھا
ہمارا وقت پورا ہو چکا ہے
 نہ اب وہ عشق باقی ہے نہ وحشت
نہ جانے کون کس کو کھا گیا ہے
 بجُز اس کے نہیں کچھ آئینے میں
مِرا چہرا ہے جو اُترا ہوا ہے
 یہ تم جو مجھ کو اچھے لگ رہے ہو
تمہارا وقت اچھا چل رہا ہے
وہ خوں جو آنکھ سے بہتا نہیں تھا
مِرے دامن پہ کیسے آ گیا ہے
تمہارا خواب ابھی بکھرا نہیں  ہے
مگر آنکھوں میں میری چُبھ رہا ہے
 تعفّن اُٹھ رہا ہے اب وفا سے
یہ جذبہ جانے کب کا مر چکا ہے
 یہ کس نے دی ہے میرے دل پہ دستک
یہاں دروازہ کیسے  بن گیا ہے
محبت اس نہج تک آ گئی ہے
تِرا چپ رہنا اچھا لگ رہا  ہے

عمار اقبال

No comments:

Post a Comment