صفحات

Friday, 10 January 2014

وہی خوشبو کبھی گلشن سے کبھی بن سے نکال

وہی خوشبو کبھی گلشن سے، کبھی بَن سے نکال
وہی آتش کبھی گل سے، کبھی آہن سے نکال
 آنکھ کو وسعتِ صحرا کا تماشائی کر
 نگہِ مردہ و افسردہ کو روزن سے نکال
 کر کچھ ایسا کہ تِری خاک میں پرواز آئے
 اب کوئی اسپِ فلک سیر، اِسی توسن سے نکال
 مجھ سے مَر مَر کا وہ ترشا ہوا بُت کہتا تھا
 فن مِری راہ کا پتھر ہے، مجھے فَن سے نکال
 قُربِ منزل کی بشارت ہے بہت دُور کی بات
 راہبر! پہلے ہمیں، پنجۂ رَہزن سے نکال
 تیری پہچان نہ بن جائے مِرے خون کا داغ
 یہ کوئی پھول نہیں ہے، اِسے دامن سے نکال

خورشید رضوی

No comments:

Post a Comment