صفحات

Monday, 6 January 2014

کبھی اکیلے میں مل کر جھنجوڑ دوں گا اسے

کبھی اکیلے میں مِل کر جھنجوڑ دوں گا اسے
جہاں جہاں سے وہ ٹُوٹا ہے، جوڑ دوں گا اسے
مجھے ہی چھوڑ گیا، یہ کمال ہے اس کا
ارادہ میں نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے
پسینہ بانٹتا پھرتا ہے ہر طرف سورج
کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے
مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے
بچا کے رکھتا ہے خود کو وہ مجھ سے شیشہ بدن
اسے یہ ڈر ہے کہ توڑ پھوڑ دوں گا اسے

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment