صفحات

Monday, 6 January 2014

روز و شب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے

روز و شب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے
چین آ جاتا، اگر کھیل کے ہارے ہوتے
خود سے فرصت ہی میسر نہیں آئی ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے، تو تمہارے ہوتے
تجھ کو بھی غم نے اگر ٹھیک سے برتا ہوتا
تیرے چہرے پہ خد و خال ہمارے ہوتے
کھل گئی ہم پہ محبت کی حقیقت، ورنہ
یہ جو اب فائدے لگتے ہیں خسارے ہوتے
ایک بھی موج اگر میری حمایت کرتی
میں نے اس پار کئی لوگ اتارے ہوتے
لگ گئی اور کہیں عمر کی پونجی ورنہ
زندگی ہم تِری دہلیز پہ ہارے ہوتے
خرچ ہو جاتے اسی ایک محبت میں کبیرؔ
دل اگر اور بھی سینے میں ہمارے ہوتے

کبیر اطہر 

No comments:

Post a Comment