صفحات

Saturday, 11 January 2014

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو

گیت

 اپنے ہاتھوں کی لکِیروں میں بسا لے مجھ کو
 میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
 میں ہوں گر پھول تو جُوڑے میں سجا لے مجھ کو
 میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں، پیارے
 تو دبے پاؤں کبھی آ کے چُرا لے مجھ کو
 مجھ سے تُو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
 یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
 میں سمندر بھی ہوں، موتی بھی ہوں، غوطہ زن بھی
 کوئی بھی نام مرا لے کے بُلا لے مجھ کو
 خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
 کر دیا تُو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
 بادہ پھر بادہ ہے، زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ 
 شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment