اے عشق! وہ بت رونقِ بتخانہ بنا دے
جو ہستئ یزداں کو بھی افسانہ بنا دے
ہے عشرتِ دیوانگئ عشق عجب چیز
دیوانہ بنا دے، مجھے دیوانہ بنا دے
ہر فکرِ جگر سوز کی بنیاد خرد ہے
گمنام ہوں، ناپید ہوں، گویا کہ نہیں ہوں
کیا دیکھ رہا ہے، مجھے افسانہ بنا دے
ہو سکتا ہے افسانے کا گر تُو متحمل
پھر مجھ کو بڑے شوق سے افسانہ بنا دے
اے زاہدِ کم فہم! تجھے علم بھی ہے کچھ
دل کعبہ نہیں ہے، اسے بتخانہ بنا دے
دل مانگا تھا یارب، یہ تجھے کس نے کہا تھا
پہلو میں مرے چھوٹا سا غم خانہ بنا دے
یہ آپ کی دُزدیدہ نگاہی کہیں یوں ہی
دل میں مرے اک شہرِ تمنا نہ بنا دے
ہستی مری رہ جائے نہ جز نشہ و مستی
یوں دیکھ مجھے لغزشِ مستانہ بنا دے
اے جانِ عدمؔ آ مری گفتار میں ڈھل جا
ہر شعرِ صنم رنگ کو بتخانہ بنا دے
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment