میرے ہر وصل کے دوران مجھے گُھورتا ہے
اِک نئے ہِجر کا اِمکان مجھے گھورتا ہے
میرے ہاتھوں سے ہیں وابستہ امیدیں اس کی
پھول گرتے ہیں تو گلدان مجھے گھورتا ہے
آئینے میں تو کوئی اور تماشا ہی نہیں
میرے جیسا کوئی انسان مجھے گھورتا ہے
اب تو یوں ہے کہ گھٹن بھی نہیں ہوتی مجھ کو
اب تو وحشت میں گریبان مجھے گھورتا ہے
میں تو ساحل سے بہت دور کھڑا ہوں پھر بھی
ایسا لگتا ہے کہ طوفان مجھے گھورتا ہے
میری تمثیل کے کردار خفا ہیں مجھ سے
میرے افسانے کا عنوان مجھے گھورتا ہے
اِک نئے ہِجر کا اِمکان مجھے گھورتا ہے
میرے ہاتھوں سے ہیں وابستہ امیدیں اس کی
پھول گرتے ہیں تو گلدان مجھے گھورتا ہے
آئینے میں تو کوئی اور تماشا ہی نہیں
میرے جیسا کوئی انسان مجھے گھورتا ہے
اب تو یوں ہے کہ گھٹن بھی نہیں ہوتی مجھ کو
اب تو وحشت میں گریبان مجھے گھورتا ہے
میں تو ساحل سے بہت دور کھڑا ہوں پھر بھی
ایسا لگتا ہے کہ طوفان مجھے گھورتا ہے
میری تمثیل کے کردار خفا ہیں مجھ سے
میرے افسانے کا عنوان مجھے گھورتا ہے
عمار اقبال
No comments:
Post a Comment