صفحات

Wednesday, 1 January 2014

اس سے پہلے کہ خرابات کا دروازہ گرے

فرار

اِس سے پہلے کہ خرابات کا دروازہ گرے
رقص تھم جائے، اداؤں کے خزانے لُٹ جائیں
وقت کا درد، نگاہوں کی تھکن، ذہن کا بوجھ
نغمہ و ساغر و اِلہام کا رُتبہ پا لے
کونپلیں دُھوپ سے اک قطرۂ شبنم مانگیں
سنگساری کا سزاوار ہو بلّور کا جِسم
دِل کے اُجڑے ہوئے مندر میں وفا کی مِشعل
مصلحت کیشئ طُوفان کی زد میں آ جائے
آہُوئے دشتِ جنُوں شہر کی حد میں آ جائے
سب کے قدموں میں تمنّا پئے خمیازہ گرے
عاقلو، دیدہ ورو، دُوسری راہیں ڈُھونڈو
اِس سے پہلے کہ خرابات کا دروازہ گرے

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment