فرار
اِس سے پہلے کہ خرابات کا دروازہ گرے
رقص تھم جائے، اداؤں کے خزانے لُٹ جائیں
وقت کا درد، نگاہوں کی تھکن، ذہن کا بوجھ
نغمہ و ساغر و اِلہام کا رُتبہ پا لے
کونپلیں دُھوپ سے اک قطرۂ شبنم مانگیں
دِل کے اُجڑے ہوئے مندر میں وفا کی مِشعل
مصلحت کیشئ طُوفان کی زد میں آ جائے
آہُوئے دشتِ جنُوں شہر کی حد میں آ جائے
سب کے قدموں میں تمنّا پئے خمیازہ گرے
عاقلو، دیدہ ورو، دُوسری راہیں ڈُھونڈو
اِس سے پہلے کہ خرابات کا دروازہ گرے
مصطفیٰ زیدی
No comments:
Post a Comment