زخم در زخم اذیت کا جہاں پهیل گیا
شام پهیلی ہے کہ آنکھوں میں دھواں پھیل گیا
صحن تک آنے لگے چاند جبینوں والے
دشت پھیلا ہے کہ اب شہرِ بُتاں پهیل گیا
سرحدِ عشق پہ جا پہنچے مسافر غم کے
اور پهر راه میں اک کوهِ گراں پهیل گیا
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گزر جائے گا
اگر دیدار کا ہو شوق کہہ دو جا کے موسیٰ سے
لڑائیں کچھ دنوں آنکھیں کسی محوِ تماشا سے
خرامِ ناز نے کس کے یہ کی مشقِ مسیحائی
صدا آتی ہے کانوں میں لبِ نقشِ کفِ پا سے
ہماری خاک کے ذرے بہت بیتاب رہتے ہیں
قیامت ہے لگانا دل کسی خورشید سیما سے