بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے
بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے
شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے
موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے
ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی
یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے
بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے
بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے
شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے
موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے
ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی
یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے
سراب خوردہ کسی کہانی میں ڈُوب جائیں
وہ لاؤ لشکر سمیت پانی میں ڈوب جائیں
تمہارے جیسے نہ جانے کتنے عمیق دریا
ہماری آنکھوں کی رائیگانی میں ڈوب جائیں
ہمارے مضروب جسم سے تیر کھینچ لینا
کہ خیالات کی روانی میں ڈوب جائیں
جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے
قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری
خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے
حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے
مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے
جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا
اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا
بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ
نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا
مِرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی
یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی رحم، اب کیا دیر ہے تنزیل رحمت میں
مدد فرما مدد کا وقت ہے ہم ہیں مصیبت میں
گنہگار آنکھ میں بھر لائے ہیں آنسو ندامت کے
نہ اب آیا تو کب جوش آئے گا دریائے رحمت میں
کرم تیرا نہ ہو گا اے خدا! گر میری کشتی پر
تو یا رب غرق ہو جائے گی دریائے ہلاکت میں
میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں
نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی
چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے
یہ مناسب نہیں ہے، آدمی کے لیے
پیار سے بھی ضروری کئی بات ہیں
پیار سب کچھ نہیں ہے، زندگی کے لیے
دل کو بے مول بیچو نہ جذبات میں
قدر باقی رہے، آدمی کے لیے
یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا
سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا
موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ
یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا
اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود
یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا
اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو
کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو
غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے
ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو
منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں
روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو
مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے
ترے بندے دکھاوے کی وفاداری نہیں کرتے
ہمالہ کی بلندی بھی قدم بوسی کو گر اترے
زمیں والے زمیں کے ساتھ غداری نہیں کرتے
ہماری تشنہ کامی خود ہوا دیتی ہے شدت کو
عجب بادل ہیں پیاسوں کی طرف داری نہیں کرتے
کیسا شہرِ معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے
مگر آئینۂ ادراک اب بھی کھل رہا ہے
فقیہِ وقت کے فتویٰ سے سچ دب سا گیا تھا
مگر ہر لفظ کے باطن میں سُورج پل رہا ہے
سلاسل اوڑھ کر بیٹھے ہیں اہلِ زر و مسند
ضمیرِ عصر پھر آہن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر اک زباں پر ورد ہے آقاﷺ تِرا
کیسے نہ کرتا یا نبیﷺ چرچا ترا
قسمت زرا وہ دیکھیں حاجی بنے
جو چوم کر آئے حسیں روضہ ترا
صدیقؓ ہو عثمانؓ وہ حضرت علیؓ
پھر ہو گیا حضرت عمرؓ شیدا ترا
امی کے نام انتساب
نرم ہاتھوں سے گوندھ کر مٹی
ایک پیکر حسیں بنایا گیا
زندگی کے حسین رنگوں سے
سر سے پاؤں تلک سجایا گیا
نور کچھ آسمان سے لے کر
روح کی طرح اتارا گیا
روز و شب کا نصاب لگتی ہے
زندگی اک کتاب لگتی ہے
دوستو کیا تمہیں مری صورت
خستہ حال و خراب لگتی ہے
عشق میں عمر جو گزاری ہے
اب سنہرا سا خواب لگتی ہے
تغیّرات سے کب ربطِ گُلستاں نہ رہا
بہار آئی تو کیا خطرۂ خزاں نہ رہا
جبیں جھُکائی تو جنت خرید لی جیسے
سمجھ رہے ہیں کہ اب کوئی امتحاں نہ رہا
فضا میں گُونج رہی ہیں کہانیاں غم کی
ہمیں کو حوصلۂ شرح داستاں نہ رہا
سُنا ہے تُو بڑا خود دار و کم آمیز ہے ساقی
مگر رِندوں کو کیا پیمانہ جب لبریز ہے ساقی
نوازشیں ہیں رِند ایسی، نہ ہے تیرا لحاظ ایسا
طبیعت ہی کچھ اپنی سخت بد پرہیز ہے ساقی
سلامت ساغر و مِینا،۔ سلامت مے کدہ تیرا
برغمے بزمِ دوراں نبض اپنی تیز ہے ساقی
ہمسفر اب مِرے پہلو میں مِرا دل نہ رہا
جس میں تو گرم سفر تھا وہی محمل نہ رہا
کس کی امید پہ لڑتا پھروں طوفانوں سے
منتظر اب مِرا کوئی لب ساحل نہ رہا
جس پہ مر مر کے ہمیں ڈھنگ سے جینا آیا
کیا کریں اب سرِ مقتل وہی قاتل نہ رہا
موت کے سامنے کھڑی ہوں میں
عمر کی آخری گھڑی ہوں میں
تختِ افلاک تک نہیں پہنچی
کیسے عالَم میں آ پڑی ہوں میں
ناچتا ہے وہ رزق سڑکوں پر
جس کی خاطر بہت لڑی ہوں میں
اندھیرا کیوں جا بجا ہوا ہے
چراغِ دل تو جلا ہوا ہے
ہجومِ حسرت ہر اک جگہ ہے
اے ناخداؤں یہ کیا ہوا ہے
ستم گرو تم ڈرو خدا سے
کوئی نہ ہو تب خدا ہوا ہے
بغداد
سو
منصور
ایسا بور ہے جیون درختوں کا
جو ہر غارت گری کے سرخ موسم میں
سرِ شاخِ نخیلِ جاں
اکیلا ہی نکلتا ہے
اس پر فدا حروف تھے قربان لفظ لفظ
دل میں اتر گیا وہی ارمان لفظ لفظ
دل کا غبار شعروں میں بین السطور تھا
چپ تھے ردیف و قافیہ انجان لفظ لفظ
جب کوئی نقص میری غزل میں نہ مل سکا
پڑھنے لگا وہ غور سے دیوان لفظ لفظ
صحرا بھی سو گیا ہے دریا بھی سو گیا
قسمت کا اپنی یارو تارا بھی سو گیا
ہم جاگتے ہیں اس دم تاریک رات میں
منزل بھی سو گئی جب رستہ بھی سو گیا
تھی آرزو سفر میں تم مِرے ساتھ ہو
ہمراز کھو گیا ہے، سایہ بھی سو گیا
گزر جاتا ہے یوں دور شباب آہستہ آہستہ
کہ اترے جس طرح کیف شراب آہستہ آہستہ
شفق ہوتی ہے جیسے منتقل شب کے اندھیروں میں
بدلتی جاتی ہے تعبیر خواب آہستہ آہستہ
چلے گا سلسلہ کچھ اور ابھی خانہ خرابی کا
کہ بستے ہیں تباہ انقلاب آہستہ آہستہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ان کی تخلیق تو سب سے پہلے ہوئی
جلوہ فرما وہ آخر میں سب سے ہوئے
روشنی اس جہاں کو ان ہی سے ملی
ان کے دم سے جہاں کے اندھیرے چھٹے
میرے آقاﷺ یہ تیرا ہی فیضان ہے
تیری نسبت سے سب غیر اپنے بنے
فلسطینی شاعرہ کے کلام کا اردو ترجمہ
وہ قوم کبھی نہیں جھک سکتی
جس نے بغاوت کو اپنے دل میں سمو لیا ہو
اور سورج کی طرف بڑھتی چلی جائے
وہ کبھی نہیں جھکے گی
فدویٰ طوقان
گھر جلا میرا تو لوگوں نے تماشا دیکھا
یا خدا! میں نے تِری دنیا میں یہ کیا دیکھا
یہ جہاں خواب میں تھا وادئ رنگ و نکہت
جب کھلی آنکھ، دہکتا ہوا صحرا دیکھا
بن گئی پانو کی زنجیر غمِ دہر کی دھوپ
دور ہی سے تِری دیوار کا سایہ دیکھا
اے کاش سنتا مری وہ گزارشات کبھی
جنہیں زمانہ کہے گا نگارشات کبھی
بدن کہ مٹی کا بت ہے وہ جسم یا پیکر
بس اک شخص رہا میری کائنات کبھی
مجھے وصال ملا تھا تو ہجر پایا ہے
نہیں بھلانے کی اس کی نوازشات کبھی
اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد
ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد
اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار
اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار
ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں
جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں
ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے
اک دعا اور کہ بارش کی دعا بر آئے
آنکھ رکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم نے
ورنہ منزل سے حسیں راہ میں منظر آئے
کوئی امکان کہ جاگے کبھی لوہے کا ضمیر
اور قاتل کی طرف لوٹ کے خنجر آئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منظر دیکھے ان کے حرم کے
بھاگ جگے ہیں چشمِ نم کے
نورِ اول ذاتِ محمدﷺ
وہ مصداق ہیں لوح و قلم کے
ان کے شہر کے ذرے ہوتے
بوسے لیتے ان کے قدم کے
اتنی چاہت سے بھلا، کون صدا دے گا تجھے
جو بھی تو مانگےگا دل سے، وہ خدا دے گا تجھے
رات بھر نیند نہ جانے، کیوں گریزاں مجھ سے
وحشت دل کے لیيے کون، دوا دے گا مجھے
کوئی انساں نہ رہا، سب ہی تھے حیوان یہاں
آخر کار وہ تنگ آ کے، وبا دے گا تجھے
عزمِ مصمم
چپ چاپ سہو
شکوہ نا کرو
کوئی کچھ بھی کہے
سب سنتے رہو
جس حال میں
جینا مشکل ہو
تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے
کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے
سجائے پھرتے ہو محفل نہ جانے کس کس کی
کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے
وہ دیکھتے ہی نہیں جو ہے منظروں سے الگ
کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے
ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں
جھولی میں کوئی پھول گرانے میں لگے ہیں
کچھ میں بھی تو جینے کے بہت حق میں نہیں ہوں
کچھ دکھ بھی مرا ہاتھ بٹانے میں لگے ہیں
اُس پار کے لوگوں سے ہمیں بھی ہے عقیدت
ہم پھول نہیں اشک بہانے میں لگے ہیں
کیسا یہ خوف شہر سے جنگل میں آ گیا
بُو اپنی گُل سمیٹ کے کونپل میں آ گیا
مُٹھی میں بھر کے ریت اُڑا دی فقیر نے
سارے کا سارا دشت ہی ہلچل میں آ گیا
مجھ سے بچھڑ کے اس کی بھی حالت بُری ہوئی
ہر ایک اشک دونوں کا بادل میں آ گیا
کتنی حسیں ہے شام چلو شاعری کریں
چھوڑو یہ تام جھام چلو شاعری کریں
اس شغل میں نہ وقت نہ موسم کی شرط ہے
ہو صبح یا کہ شام چلو شاعری کریں
مرحوم شاعروں کا جو مل جائے کچھ کلام
سرقے کا لے کے جام چلو شاعری کریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری رحمتیں بے پایاں تیرا کرم ہے جاری
تیرے کرم سے مولا ہے زندگی سنواری
شیوہ نہیں ہے شکوہ شایاں نہیں ہے زاری
دکھ ہو کہ رنج و غم ہو چاہے کوئی بیماری
تیری رضا میں راضی شکوہ نہیں کسی سے
جس حال میں بھی مالک یہ زندگی گزاری
کتنے یہاں جو عاقل و بیدار بیٹھے ہیں
اتنے ہی شہر میں کہاں غمخوار بیٹھے ہیں
مرشد ہمارے ہاتھ سے اک ظلم ہو گیا
محفل میں اپنی آستیں ہم جھاڑ بیٹھے ہیں
افسوس جن پہ تکیہ کیا تھا حیات کا
دشمن کی پہلی صف میں وہی یار بیٹھے ہیں
اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا
امید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیا
وہی ہے جام وہی مے وہی سبو لیکن
بدل گئی ہیں زمانے کی نیتیں کیا کیا
دبی زبان سے کرتے ہیں غیر در پردہ
تمہارے منہ پہ تمہاری شکایتیں کیا کیا
کل بھی پتھر کا آج بھی پتھر کا
ہے زمانوں پہ راج پتھر کا
آپ کی سوچ آئینہ تمثال
اور سارا سماج پتھر کا
وہ پہنتے ہیں اور دکھاتے ہیں
حسن سے امتزاج پتھر کا
کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے
جو بات تیری نگاہوں کی احتیاط میں ہے
کچھ اس طرح سے چلے جا رہے ہیں کانٹوں پر
کہ جیسے ہاتھ ہمارا تمہارے ہاتھ میں ہے
دیے جلے ہیں سجی جا رہی ہے کل کی دلہن
عجیب حسن غم زندگی کی رات میں ہے
گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے
وہ میری قبر پہ آئے ہیں آج بن ٹھن کے
چرا کے لے گیا میری وہ زندگی کی کتاب
بڑے خلوص سے صدقے اتارے رہزن کے
وہ ہم سے مانگ رہے ہیں ثبوت حب وطن
بزرگ جن کے تھے پنشن گزار لندن کے
میں عرش و فرش پر محوِ خیال طور رہتا ہوں
عیاں سیرت سے ہوں، صورت سے گو مستور رہتا ہوں
حقیقت میں میرا مسکن تو مے خانہ ہے مے خانہ
نہ حاجت جام و مینا کی، نشے میں چُور رہتا ہوں
میرا سایہ نہ چھوڑے گا قیامت تک میرا پیچھا
یہ اتنا پاس آتا ہے، میں جتنا دور رہتا ہوں
ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو
گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو
زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے
دیکھنے والو مِرا زخم جگر تو دیکھو
کہہ رہی ہے مِرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام
یہ مِرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو
جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھا
نصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھا
وہ آتے نہ آتے شب وعدہ لیکن
مجھے دے کے سر کی قسم دیکھنا تھا
خجالت ہوئی اس کے کوچہ میں کیا کیا
مجھے پہلے نقش قدم دیکھنا تھا
کیا بتاؤں مجھے کیا یاد ہے کیا یاد نہیں
اتنے غم ہیں کہ غم ہوش ذرا یاد نہیں
اس گنہ گار محبت پہ خدا رحم کرے
جس کو کچھ تیری محبت کے سوا یاد نہیں
میری دیوانہ مزاجی پہ ہے الزام مگر
اپنی بے گانہ نگاہی کی ادا یاد نہیں
میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے
لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے
دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں
غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے
ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں
چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے
سنبھل کر شراب محبت لٹائیں
وہ مخمور آنکھیں قیامت نہ ڈھائیں
نہ لائیں گی کیا زلفِ جاناں کی نکہت
نہ آئیں گی کیا روح پرور ہوائیں
خدا جانے قسمت میں ہیں یا نہیں ہیں
دیارِ محبت کی دل کش فضائیں
طنز کے پتھر نامِ وفا پر جب بھی کوئی برساتا ہے
درد کا رشتہ آنسو بن کر آنکھوں میں آ جاتا ہے
رات اندھیری ناگن بن کر کروٹ کروٹ ڈستی ہے
یاد کا مجرم جب خوابوں کو زہر کے جام پلاتا ہے
اوڑھ کے مذہب کی چادر کو قتل کی سازش ہوتی ہے
سچائی کا بادل ہر دم کُفر کے پھل برساتا ہے
گریہ نہ ہو سکے گا تِرے رہگزار میں
اب جان ہی نہیں ہے ترے سوگوار میں
حامی زمین کا ہے نظر آسماں پہ ہے
کچھ تو غرور سا ہے ترے انکسار میں
مت پوچھ ہائے عمر وہ کتنی دراز تھی
ہم نے گزار دی جو ترے انتظار میں
دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے
اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے
بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ
ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے
پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے
اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے
جیسے جیسے آگہی آرامِ جاں ہوتی گئی
ویسے ویسے اپنی لا علمی عیاں ہوتی گئی
رمزِ فطرت گر کوئی پا بھی گیا اہلِ نظر
کب وہ اس اہلِ نظر سے بھی بیاں ہوتی گئی
اٹھ گئے جب بھی مخالف مردِ صادق کے خلاف
خود صداقت اٹھ کے اس کی پاسباں ہوتی گئی
کون کہہ سکتا ہے اب ان کو خطا کے دھبے
اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے
اب بھی کرتا ہوں وہ مخمل سی ہتھیلی محسوس
اب بھی موجود ہیں دامن پہ حنا کے دھبے
غم کے صحرا سے نکل آئے تھے شاید کچھ لوگ
کتنے چہروں پہ نظر آئے ہوا کے دھبے
ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا
اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا
کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں
اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا
اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی
پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا اچھا ہی ہوا
کہ اعلیٰ و ادنیٰ سبھی مِل مجھے
بُرا مِری گردش کو سب نے کہے
جو گردش سے اس چرخ کی وہ جوان
ہوا ہائے زیرِ زمیں مہہ نہاں
ہے تاریک آنکھوں میں سارا جہاں
تڑپنا شب و روز ہے گا یہ جہاں
چند لفظوں کے جال میں رکھا
دل کو رنج و ملال میں رکھا
غم کا سایا بھی اس نے اک لا کر
نظم روز وصال میں رکھا
جو بھی ہم نے جواب میں چاہا
اس کو اپنے سوال میں رکھا
یاد
دیار غیر میں صبح وطن کی یاد آئی
نسیمِ آبلہ پا کو چمن کی یاد آئی
جراحتوں نے کیا اہتمامِ لالہ و گُل
بہارِ رفتہ کو سرو و سمن کی یاد آئی
گزر رہے تھے شب و روز کنجِ عزلت میں
کہ شمع بن کے تِری انجمن کی یاد آئی
اپنی اوقات زمانہ کو بتاتے آئے
تم جدھر آئے ادھر آگ لگاتے آئے
ہم کو محفل میں تعلق کا بھرم رکھنا تھا
دشمنوں کو بھی گلے اپنے لگاتے آئے
بس یہی ان کا کرم ہم پہ بہت بھاری ہے
جب وہ آئے تو کرم اپنا جتاتے آئے
سُناتا ہوں تمہیں میں اپنی بات، آہستہ آہستہ
گُزرتی جائے ہے فُرقت کی رات آہستہ آہستہ
کہاں پیدا ہوا اور کس جگہ پر زندگی گُزری
چلی ہی جائے ہے میری برات، آہستہ آہستہ
الٰہی شکریہ تیرا کہ مجھ کو چند لمحوں میں
غموں سے مل ہی جائے گی نجات، آہستہ آہستہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا مصطفیٰﷺ یا مجتبیٰﷺ خیرالورا جانِ جہاں
محبوب جس کو خود کہا بےشک خدا جان جہاں
حضرت عمر سے فاطمہؑ کہنے لگی بھائی سنو
تجھ کو مرادِ مصطفیٰﷺ کہتا رہا جان جہاں
بیمار ہیں ہم جانتے ہیں آپ ہیں غمخوار بس
ہم کو عطا ہو آپ کی خاک شفا جان جہاں
پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی
ہونٹوں کو چھو گئیں وہی سانسیں گلاب کی
وہ شخص جانے کیوں بہت اپنا لگا مجھے
جس نے کبھی چھیڑ دیں باتیں جناب کی
دل کے فقیر نے کہا؛ جو مانگنا ہے مانگ
میں نے بھی پیر مانگ لی ساجھے حساب کی
بس اپنے خواب سے تعبیر کا سامان لیتے ہیں
وہ سب انجان ہیں کہتے جو ہیں ہم جان لیتے ہیں
یہی کہہ دے تِری گلیوں کی ہم نے خاک چھانی ہے
تِرے دفتر سے وہ ایوان کے دیوان لیتے ہیں
ہوا کی موج میں رہ رہ کے آہٹ تیری ملتی ہے
تجھے اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے
کاندھے پہ اپنی لاش اٹھانی پڑی مجھے
غدار ہم سفر تھے سو کرتا میں کیا بھلا
چلتی ہوئی ٹرین جلانی پڑی مجھے
گہرائی الجھنوں کی بلندی سے جب دکھی
ہاتھوں سے اپنی سیڑھی گرانی پڑی مجھے
یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا
کبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا
واقعی جائے ندامت تو یہی ہے کہ کبھو
مجھ سے جو کام عزیزاں نہ ہوا تھا سو ہوا
تجھ کو دیکھے کوئی اور اس سے خفا ہونا ہائے
کیا کروں اے دل ناداں نہ ہوا تھا سو ہوا
عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے
ہم اپنی سادگی سے جب کبھی سمجھے یہی سمجھے
بہت برباد ہو کر آہ رازِ عاشقی سمجھے
تمہاری دوستی کو ہم فلک کی دشمنی سمجھے
جہاں محرومیاں دیکھیں وہیں دنیائے دل پائی
جسے بربادِ غم دیکھا اسی کو آدمی سمجھے
وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو
خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو
میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے
میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو
جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں
آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو
منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ
مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ
تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں
مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ
وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے
اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ
فرزانے تجھ کو ڈھونڈ کے لاچار ہو گئے
دیوانے تیرے صاحبِ اسرار ہو گئے
یارب عطا ہو پائے طلب کو جنوں کا جوش
ہوش و حواس راہ کی دیوار ہو گئے
گھبرا کے ہم بھی تنگئ دامانِ فکر سے
عریاں کبھی کبھی سرِ بازار ہو گئے
بالوں کی سیاہی میں سفیدی جو عیاں ہے
بس چونکیے یہ صبح کی آوازِ اذاں ہے
یوں لذتِ آآزارِ قفس رشتۂ جاں ہے
"اب دل پہ نشیمن کا تصور بھی گراں ہے"
ہر سُو نگراں ہوں متجسس ہیں نگاہیں
سائے تو بہت ہیں مگر انسان کہاں ہیں
در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں
ہم نہیں جائیں گے اس در کے سوا اور کہیں
کر دیا ان کی جدائی نے عزیزوں سے جدا
میں کہیں اور ہوں اور دل ہے مرا اور کہیں
آپ کے کوچے میں اغیار کہاں آتے ہیں
میں نے دیکھے ہیں نقشِ کفِ پا اور کہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب سے سرکارﷺ نے نعتوں کی اجازت دی ہے
ساری دُنیا نے مجھے ڈھیر محبّت دی ہے
اُنؐ کے رتبے کو بیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں
اُنﷺ کو اللّٰہ نے نبیوں کی صدارت دی ہے
ہجر کاٹیں تبھی کُھلتا ہے کسی وصل کا بھید
آج تک اِس لیے اُس نے ہمیں فُرقت دی ہے
محفوظ کیا رہا ہے نظر سے دُکان میں
کیسے چھُپاؤں عمر کو ٹُوٹے مکان میں
دُہرائے کون قتلِ غریباں کی داستاں
زنجیر ڈال دی ہے ڈروں نے زبان میں
دن میں جو دے رہے تھے ہمیں آشتی کا درس
شب میں چُھپا رہے تھے کوئی شے مچان میں
تِری گلی میں جو بستر بِچھا کے بیٹھ گیا
وہ تیرے نام پہ سب کچھ لُٹا کے بیٹھ گیا
خُودی میں جس نے خُدا سے بھی کچھ نہیں مانگا
وہ بے خُودی میں تِرے در پہ آ کے بیٹھ گیا
قفس میں کترے تھے صیّاد نے پر بلبل کے
انہیں پروں کا نشیمن بنا کے بیٹھ گیا
اصولوں سے بغاوت کیجیے گا مت
انا خاطر سیاست کیجیے گا مت
خدا راضی رہے ہر دم ہمیشہ بس
ریا جیسی عبادت کیجیے گا مت
محبت پاک ہے جذبہ سنو لوگو
دکھاوے کی محبت کیجیے گا مت
کون آیا گیسوؤں کو پریشاں کیے ہوئے
بربادئ نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
پھر چاہتا ہوں خنجر قاتل سے ارتباط
دشوارئ حیات کو آساں کیے ہوئے
پھر ساحلِ مراد کی ہے دل کو آرزو
کشتی کو نذر شورشِ طوفاں کیے ہوئے
صراحی ہے سر محفل نہ دور جام ہے ساقی
تِری ذات گرامی موردِ الزام ہے ساقی
بگڑتی جا رہی ہے رات دن ترتیب مے خانہ
تِرے کارِ جہاں بینی کا یہ انجام ہے ساقی
مِرے حصے میں آئی ہے فقط دُردِ تہِ مینا
میسر کیوں عدو کو شیرۂ بادام ہے ساقی
خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے
آس ہم سے جو سرابوں کو تھی، توڑی ہم نے
بارہا ہم نے یہ پایا کہ لہو میں ہے شرر
اپنی دکھتی ہوئی رگ جب بھی نچوڑی ہم نے
جو سنورنے کو کسی طور بھی راضی نہ ہوئی
بھاڑ میں پھینک دی دنیا وہ نگوڑی ہم نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مکاں سے لامکاں تک ہے فقط چرچا محمدﷺ کا
گھٹا سکتا نہیں کوئی سنو رتبہ محمدﷺ کا
زمانے سے کیا لینا زمانہ کچھ نہیں دیتا
زمانہ کھا رہا ہے خود یہاں صدقہ محمدﷺ کا
مصیبت سے نکلنا جو کبھی چاہو اگر مومن
لبوں پر ورد ہو ہر دم فقط آقا محمدﷺ کا
جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں
اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں
میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں
کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں
خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی
اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں
کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے
کم تھا کہ ان سے آپ ملاقات کیجیے
اے نازنین، حسنِ مکمل کا واسطہ
بہتر ہمارے شہر کے حالات کیجیے
پہلے مٹیں جناب رہِ عشقِ یار ہے
پھر اس کے بعد ذات کا اثبات کیجیے
جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں
نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں
لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس
برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں
ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا
ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں
جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
لسانی نفرتوں کو اب مٹانا چاہیے سب کو
لگائی آگ جس نے بھی بجھانا چاہیے سب کو
سیاسی گفتگو بھی آج کل رہبر نہیں کرتے
زرا اخلاق رہبر کو سکھانا چاہیے سب کو
وطن تک بیچنے آئے جنہیں رہبر سمجھتے ہو
لٹیروں سے وطن اپنا بچانا چاہیے سب کو
اس پیار سے تو مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں
چنگاریوں کو پھر سے ہوا دے رہا ہے کیوں
اے چارہ گرہ میں محبت کی ہوں مریض
بس پیار مجھ کو دے دے دوا دے رہا ہے کیوں
تقسیم کرتے دیکھا تو تب راز یہ کھلا
اس آدمی کو اتنا خدا دے رہا ہے کیوں
ایسی عادت پڑی لڑائی کی
جان لیتا ہے بھائی بھائی کی
انگلیاں اٹھتی ہیں خدائی کی
ہت تِری ایسی بے حیائی کی
دھجیاں میکدے میں شیخ کی آج
خوب اڑتی ہیں پارسائی کی
سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے
مجھے فرصت نہیں آہ و فغاں سے
نہ پوچھو ماجرائے شوق ہم سے
کہیں لغزش نہ ہو جائے زباں سے
کرم ان کا ترے حال زبوں پر
مگر یہ بات باہر ہے گماں سے
چھپ سکی نہ دل کی بات آپ کے چھپانے سے
کچھ نظر سے سمجھے ہم، کچھ نظر چرانے سے
ترکِ دوستداری کا کیا گلہ کہ وہ بھی ایک
رسم تھی زمانے کی اٹھ گئی زمانے سے
اس خوشی کو لے کر بھی کیا کرے گا دیوانے
جس خوشی کی راہوں میں غم نہیں زمانے سے
وصیت
میرے جانے کے بعد
تم مجھے لفظوں میں یاد کرو گی
تب اچھے بُرے سب لفظ
میرے لیے تو بے معنی ہو چکے ہوں گے
مجھے یاد ہی کرنا ہے تو
نرگس کے گلدستوں میں
یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے
ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے
سمجھے تھے کہ وہ شکوے گِلے بھُول گئے ہیں
معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے
رکھیں گے تِرے غم کو زمانے سے چھپا کر
تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے
الاؤ
کنول کے پھولوں، بنفشی خوابوں
کو روز دفتر کی بوڑھی میزوں
کے چٹخے کونوں سے چھلنی کرنا
شراب رُت میں بھی دہکی خواہش
کا اک الاؤ پہن کے پھرنا
خود اپنی آنکھوں میں خاک بھرنا
جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا
وہیں تلاش کرو میں جہاں نہیں ہوتا
اگر تمہاری زباں سے بیاں نہیں ہوتا
مِرا وجود کبھی داستاں نہیں ہوتا
بچھڑ گیا تھا وہ ملنے سے پیشتر ورنہ
میں اس طرح سے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا
کیا کہیں اور پھر ملیں گے ہم، کیا کوئی اور زندگی ہو گی
بیٹھ تو، بات کر کہ کیا معلوم کون سی چائے آخری ہو گی
اک تعلق کے ٹوٹ جانے سے شہر کا شہر ٹوٹ جائے گا
پھر یہ رت لوٹ کر نہ آئے گی، پھر ملاقات سرسری ہو گی
چشمِ پُرنم سے مت پریشاں ہو، شب کی جاگی ہوئی ہیں بیچاری
پھر تعلق کے اس مرحلے پر آنکھ کس کی نہیں بھری ہو گی
تم مجھے مار کر کیا کرو گے؟
دشت میں میری لاش پھینک کر
تم مجھ سے ہاتھ نہیں دھو سکتے
میرا لہُو تمہارے ہاتھ پر
مقدر کی لکیر میں اُتر کر جم چکا ہے
جسے تم جنم جنم بھی کھُرچو گے
ہجر میں دل ٹھکانے لگ گیا ہے
آنکھ سے خون آنے لگ گیا ہے
ایسی تنہائی ہے کہ اب تو ہمیں
خود سے بھی خوف آنے لگ گیا ہے
جس کو نفرت تھی شعر گوئی سے
عشق میں گیت گانے لگ گیا ہے
ہاں امتحانِ سوزِ دروں کر چکے ہیں ہم
اب ترک راہ و رسمِ جنوں کر چکے ہیں ہم
ڈرتے ہیں ناشناسی اہلِ کرم سے اب
دل رفتگاں کی یاد میں خوں کر چکے ہیں ہم
اب ان سے بے رُخی کی شکایت فضول ہے
خود پرچمِ طلب ہی نِگوں کر چکے ہیں ہم
قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا
کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا
اچھل رہا تھا کناروں سے نیند کا دریا
سو میں نے خواب کا رخ اور سمت موڑ دیا
ہوا نے ہاتھ نہ تھاما مِری صداؤں کا
تو میں طیش میں آ کر چراغ توڑ دیا
جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا
دل گیا عشق میں پر دل کا لگانا نہ گیا
موت کے بعد بھی اک بوجھ اٹھا رکھا ہے
سر تو جانا ہی تھا پر حیف کہ شانا نہ گیا
آج بھی آ کے وہ آنکھوں میں چہک اٹھتا ہے
گلشن دل سے کبھی تیرا زمانہ نہ گیا
نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے
یہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہے
دم رفتار اٹھا فتنے قیامت کا اشارہ ہے
تِرا منہ دیکھنا خورشید محشر کو نظارا ہے
وہ مہ رو اے فلک پھرتا ہے ہر شب میری آنکھوں میں
تصور نے مِرے غم خانے میں اک چاند تارا ہے
عقل نے چھین لی بنیائی دل کی
ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی
اب سونے کی بھی کوشش کروں تو
شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی
مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر
زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی
زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے
موت اس وقت سستی ہوتی ہے
ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا
عشق میں ایک مستی ہوتی ہے
رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس
نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے
مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم
دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم
اے گردش زمانہ! ہمیں دھمکیاں نہ دے
ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم
جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی
تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے
توے پر روٹیاں، منہ میں نوالہ کون دیتا ہے
کہیں گل کے قصیدے ہیں کہیں خوشبو کے چرچے ہیں
میں مٹی ہوں، مگر میرا حوالہ کون دیتا ہے
متاعِ جان و ایماں کا محافظ کس کو کہتے ہیں
دہانِ غار پر مکڑی کا جالا کون دیتا ہے
جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا
زندگی بھر کے لیے آنکھوں میں پانی دے گیا
سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر
ختم جو ہو گی نہیں ایسی کہانی دے گیا
سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی
اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا
نہ جواب اچھا ہے، اے دل نہ سوال اچھا ہے
بس وہ جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے
کون سا رنگ ہے جو اس پہ نہیں پھبتا ہے
کیونکہ ہر رنگ میں وہ رنگِ جمال اچھا ہے
جس طرف اٹھتی ہیں دیوانہ بنا دیتی ہیں
آپ کی نظروں میں صاحب یہ کمال اچھا ہے
جانے کیا بات بتانے مجھ کو
دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو
اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں
تیری چاہت کے فسانے مجھ کو
جانے کیا یاد دلانے آئے
تیری چاہت کے زمانے مجھ کو
اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں
کتنا فرق ہے مجھ میں اور اے آئی میں
ممکن ہے جو دِکھتا ہے وہ دھوکا ہو
سب منظر ہوں پہلے سے بینائی میں
ممکن ہے ہم عرش سے اُلٹا لٹکے ہوں
چاند کسی نے پھینک دیا ہو کھائی میں
معصوم دیکھنا نہ گنہگار دیکھنا
اس کو بس اپنی برشِ تلوار دیکھنا
اک دن مآلِ دیدۂ بیدار دیکھنا
سردار ہم ہیں، ہم کو سرِ دار دیکھنا
چل جائے کوئی چال نہ عیار دیکھنا
اے اہلِ درد! وقت کی رفتار دیکھنا
مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست
چھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوست
ہم لوگوں کو پانی اچھا لگتا ہے
ہم لوگوں نے مٹی پہنی ہوئی ہے دوست
کتنا سج دھج کر محفل میں آیا ہوں
میری وحشت گھر پر رکھی ہوئی ہے دوست
تم نے مجھے دیمک کہا
میں نے تمہارے غم چاٹ لیے
تم نے مجھے کتیا کہا
میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی
تم نے مجھے ڈائن کہا
میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی
اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک
مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم
تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں
مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا
ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا
دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج
اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا
یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے
باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا
میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے
مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے
اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح
چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے
اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا
اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے
وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا
نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا
تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں
وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا
خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر
ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا
کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی
تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی
گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے
کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی
بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی
میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی
کوئی رستہ بتانے والا نہیں
تم نہیں کوئی آنے والا نہیں
وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا
میں تو تجھ کو منانے والا نہیں
ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے
ذرات شب چراغ ہیں میری نگاہ سے
میری نظر شعاع جگر سوز و جاں گداز
روشن دلوں کے داغ ہیں میری نگاہ سے
ہے کس قدر حسین یہ تصویر کائنات
خوشرنگ باغ و راغ ہیں میری نگاہ سے
کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا
بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا
لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو
میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا
وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا
جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا
کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں
سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں
دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں
وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں
علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے
سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محراب خوں میں تر ہے تو منبر لہو لہو
مسجد میں ہے نبیﷺ کا برادر لہو لہو
قرآں کا ہر ورق بھی ہوا پاش پاش آج
زخمی ہے ہل اتٰی، تو ہے کوثر لہو لہو
ہائے شکستہ سر ہے پڑا نفسِ مصطفیٰؐ
یعنی ہُوا ہے قلبِ پیمبرﷺ لہو لہو
میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا
میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا
میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر
یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا
رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے
میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا
آ دکھ سے سکوں کشید کر لیں
پہلے بھی کیا مزید کر لیں
جذبے ہیں وہی قدیم لیکن
اظہار ذرا جدید کر لیں
چاہت نہیں ممکنات میں گر
نفرت ہی چلو شدید کر لیں
ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں
اے ہوا تیرے لیے اپنا پتا چھوڑ آئے ہیں
لوٹ کر دیکھیں گے اس کے آگے اس نے کیا لکھا
ڈائری میں اس کی اک پنا مڑا چھوڑ آئے ہیں
یوں اثر انداز اکیلے پن کا دکھ ہم پہ ہوا
طوطے کے پنجرے کو آنگن میں کھلا چھوڑ آئے ہیں
اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے
حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے
رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے
حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے
جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا
اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے
بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے
دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈتا رہتا ہے
خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو
سننے والا گویا ڈھونڈتا رہتا ہے
شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں
میرا غم تو صحرا ڈھونڈتا رہتا ہے
ایسی مطلب پرست دنیا میں
کیوں کسی سے وفا کی ہو امید
چارہ گر اس نگر ملے کیونکر؟
درد کو اس نگر دوا کیوں ہو؟
یہ علاقہ ہے زیر دستوں کا
زیر دستوں سے التجا کیوں ہو؟
اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا
پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا
ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے
یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا
پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی
ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا
جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا
داد ہنر کے نام پہ زخم ہنر ملا
خود اپنے سر پہ اپنی صلیبیں اٹھا چلو
آوارگان شہر کو کارِ دِگر ملا
انعام قد کی نشو و نما سے مُکر گیا
دستار تو ملی ہے مگر کس کو سر ملا
لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی
ایک محبت کتنے حوالوں تک پہنچی
جانتا ہے یہ کون کہ کتنی مشکل سے
باغ میں تتلی پھول کے گالوں تک پہنچی
اتر گیا جب ذہن سے خوش فہمی کا خمار
سوچ نجانے کتنے سوالوں تک پہنچی
اس کی آواز سنیں روپ انوکھا دیکھیں
زینۂ شام سے مہتاب اُترتا دیکھیں
سوچتی آنکھوں نے ہر روپ بدلتے دیکھا
جھیل کے پار جو منظر ہے اسے کیا دیکھیں
ویسے مدت ہوئی خوشبو کا سفر ختم ہوا
راستے بھاگ رہے ہیں کہ تماشا دیکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میانِ تیغ و سناں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ
حدیثِ شعلہ بجاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ
مقامِ سجدۂ بے اختیار، عجز تمام
کمالِ حرفِ بیاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ
جہاں رسولؐ کے نقشِ قدم وہیں پہ علیؑ
وہیں حسینؑ جہاں لَا الٰہ الا اللہ
ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے
لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے
میری سوچیں، مِرا احساس، مِری ہی آواز
میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے
خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے
جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے
کڑوا شربت
اپنے آپ کو نچوڑنا
جیسے انسان لیموں کو نچوڑتا ہے
کڑو اشربت، ایک نظم
تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے
اس کے فائدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی
کیوں ہزاروں بے ضرر افراد کے گھر جل گئے
سوچنے بیٹھا تو میری سوچ کے پر جل گئے
آگ تو غصہ تھی انسانوں سے پھر یہ کیا ہوا
مرغیاں ڈربوں میں، کابک میں کبوتر جل گئے
مسکرا کر لُو کے نیزے جھیلتے ہیں ہم غریب
برف کی صحبت میں تم کمرے کے اندر جل گئے
جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے
دنیا میں اسی بات کی تعریف ہوئی ہے
پیغام مسرت پہ خوشی خوب ہے لیکن
سنتے ہیں کہ ہمسائے کو تکلیف ہوئی ہے
بگڑے ہوئے کچھ حرف ہیں بے معنی سے کچھ لفظ
یہ زیست کے اوراق کی تالیف ہوئی ہے
افسوس تِری یاد نے رستہ نہیں بدلا
ورنہ تو مِرے گاؤں میں کیا کیا نہیں بدلا
جو موم کا پُتلا تھا وہ پگھلا نہیں اب تک
جو آگ کا دریا تھا وہ دریا نہیں بدلا
موسم کی طرح روز بدلنا نہیں آتا
بچپن سے اسی واسطے چہرہ نہیں بدلا
یاد آ کر ہجر میں تڑپا گئی اچھا ہُوا
یہ بھی آنی تھی مصیبت آ گئی اچھا ہوا
جور پر ان کو، ہمیں اپنی وفا پر ناز تھا
بات بڑھ کر امتحاں تک آ گئی اچھا ہوا
دل کو ہم تسکین کیا دیتے وہ کس کی مانتا
وہ نظر خود اس کو کچھ سمجھا گئی اچھا ہوا
خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے
بادشاہت ہاتھ سے نکلی گداگر ہو گئے
تیرگی میں جا پڑے روشن تقاضے صبح کے
جھوٹ سچے تھے جبھی لوگوں کو ازبر ہو گئے
جتنے عرصے ہم رہے خود سر انا کے زیر پا
ذرے سورج بن گئے قطرے سمندر ہو گئے
کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں
انہیں خبر ہی نہیں ہم اداس بیٹھے ہیں
کوئی جتائے انہیں جا کے نامہ بر بن کے
وہ ایک ہم ہیں جو اب محو یاس بیٹھے ہیں
نگاہ لطف و کرم دے گئی ہمیں غفلت
جو مدتوں سے تِرے در کے پاس بیٹھے ہیں
فریب
چھین کر مجھ سے مِری جان مِرے دل کا قرار
تُو نے گُل کر ہی دئیے میری امیدوں کے چراغ
تُو نے کیوں گھول دیا زہر مِری رگ رگ میں
تُو نے کیوں توڑ دئیے میری محبت کے ایاغ
مجھ کو معلوم تھا قاتل ہے تُو ارمانوں کی
دل مجروح کے ارمانوں سے تُو کھیلے گی
غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے
خزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے
نکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے
ہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے
کسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک
برائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے
دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں
پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں
جھلملائے جیسے لہروں پر کرن
آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں
پاؤں کی پازیب کے گھنگرو تھے اشک
ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں
ہے قصہ مختصر میرے سفر کا
نہ پانی ہے نہ سایہ ہے شجر کا
نہیں ہے جس پہ تیرا نقش پا تک
بھروسہ کیا ہے ایسی زندگی کا
چلا ہوں جانب منزل میں لیکن
نہیں نام و نشاں تک رہگزر کا
فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے
سیاستداں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتے
زمانہ وہ بھی تھا جب حادثے کا ڈر ستاتا تھا
مگر اب حادثے لوگوں کو ڈرنے ہی نہیں دیتے
کچھ ہم نے خواب ایسے پال رکھے ہیں کہ جو ہم کو
حقیقت کی زمیں پر پاؤں رکھنے ہی نہیں دیتے
کوئی سیلاب ہی آنکھوں کا مقدر کر دے
اب مِرے سینے کے صحرا کو سمندر کر دے
پھر عطا کر اسے مہکے ہوئے زخموں کے گلاب
پھر یہ شاخِ دلِ افسردہ معطر کر دے
کب تلک دیکھیں گی بے جان مناظر آنکھیں
زندگی بخش انہیں یا انہیں پتھر کر دے
میں کبھی تقدیر سے باتیں کروں
یا کبھی تدبیر سے باتیں کروں
خاک لے کر کوچۂ دلبر کی میں
دل کہے اکسیر سے باتیں کروں
وہ جو ہے زنجیر میں جکڑا ہوا
اس کی میں زنجیر سے باتیں کروں
کیا خبر تھی راہزن ہی راہبر ہو جائے گا
چارہ گر حصے کا میرے کم نظر ہو جائے گا
قافلہ غم کا شریک رہگزر ہو جائے گا
درد دل کا دھیرے دھیرے بے اثر ہو جائے گا
گفتگو سے آشنائی ہی نہیں دیکھو جسے
محفلوں میں وہ سخنور پر اثر ہو جائے گا
اک آس کی ماری ہوئی دُلہن کی طرح ہے
یہ زندگی ٹُوٹے ہوئے کنگن کی طرح ہے
ہر شخص مِرے شہر میں دُشمن کی طرح ہے
اب رام کا کردار بھی راون کی طرح ہے
دلکش ہے کہیں اور کہیں پیوند لگے ہیں
سچ پُوچھیے تو زندگی اُترن کی طرح ہے
انا کی قید سے باہر نکل کے بات کریں
تمہارا ذکر جو آئے سنبھل کے بات کریں
اگر یہاں تمہیں نا محرموں کاخطرہ ہے
چلو زمیں سے کہیں اور چل کے بات کریں
سخن سے رنگ نہ میلا ہو اس کی خُوشبو کا
لبوں پہ پھُول چنبیلی کا مل کے بات کریں
جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو
یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو
مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہو گا؟
جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجوڑتے کیوں ہو
کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ
جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گو دائرۂ مہر شرر بار ہے وسیع
سرکارؐ کی ردا کا ہر اک تار ہے وسیع
کوئے نبیِ کی خاک کے ذروں کا ہے طفیل
جو آسماں کا شعبۂ انوار ہے وسیع
ان کے کرم سے صبح مسرت بھی آئے گی
کچھ غم نہیں جو غم کی شب تار ہے وسیع
کہانی دل کی لکھو، قصۂ درد جگر لکھو
انا اپنی نہ ہو مجروح اتنا سوچ کر لکھو
تم اپنے سخت لفظوں سے اسے مت کرب پہنچاؤ
شکایت ہی سہی لیکن بہ الفاظِ دِگر لکھو
طوالت بوجھ بن جاتی ہے اکثر پڑھنے والوں پر
تاثر چاہتے ہو گر تو قصہ مختصر لکھو
نام
جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھا
وہ تمہارا نام کب تھا
وہ تو حسن عیب ہے
جو اس کو اس سے جدا کرتا ہے
آؤ سارے اسم فرضی بھول جائیں
اور یہ بھی بھول جائیں ہم کہ کچھ بھولے ہوئے ہیں
اپنا یہ عشق باعث رسوائی بن گیا
سارا جہان میرا تماشائی بن گیا
بیشک مرے خلوص کا یہ ہے کھلا ثبوت
دشمن جو کل تلک تھا، مِرا بھائی بن گیا
ایمان کی تھی شرط تو وہ اور بات تھی
ذاتی مفاد کے لیے عیسائی بن گیا
وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا
کچھ بھی ہو سکتا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا تھا
تم یقیناً ابھی آئے تھے ابھی لوٹ گئے
چشمِ احساس کو دھوکہ نہیں ہو سکتا تھا
یہ تو صد شکر کہ تو نے مجھے دیکھا ورنہ
میرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہو سکتا تھا
سموسہ
چوری چھپے کھاتے ہیں کچھ انسان سموسہ
ہیں وہ بھی جو کھائیں علی الاعلان سموسہ
ہو ناشتے میں لنچ میں پھر ہو یہ ڈنر میں
بس ان کا چلے تو ملے ہر آن سموسہ
پنواڑی نے کاٹا جو مثلث کی طرح پان
بولے کہ یہ لگتا ہے مجھے پان سموسہ
لہولہان ہے دروں، کوئی وجود ساتھیا
کوئی چُکا رہا ہے قرض ساتھ سُود ساتھیا
دیارِِ جسم و جان سے کسی کے نقش دُھل سکیں
کوئی طلسم، اسم، دم، کوئی درود ساتھیا
دروں اندھیر مچ رہی ہے پھُونک اسمِ روشنی
فقط نشان چھوڑتے ہیں یہ سجود ساتھیا
مجھے یقین ہے
یہ زمین رہے گی
اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں
تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں
دِیمک
جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن
نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھے
انہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھے
دیارِ حسنِ وفا طلب کی طرف قدم ہی اٹھائے کیوں تھے
جنوں کو الزام دینے والے جنوں کی باتوں میں آئے کیوں تھے
اسی خطا کی سزا میں اب تک نشانِ منزل نہیں ملا ہے
رہِ محبت میں اول اول مرے قدم ڈگمگائے کیوں تھے
ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے یہ بتا دیتے ہیں
دیکھتے ہیں تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں
وقف یوں زندگی تِرے لیے ہم نے کر دی
‘‘جان بھی مانگی جو تو نے تو کہا ’’دیتے ہیں
یوں سجاتے ہیں تِرے واسطے محفل جاناں
یاد کرتے ہیں تجھے خود کو بھلا دیتے ہیں
اچھے ہیں یہ اشعار انہیں غور سے دیکھیں
پھولوں میں چھپے خار انہیں غور سے دیکھیں
پھیلاتے ہیں نفرت جو ہر اک فرد بشر میں
اپنوں میں چھپے یار، انہیں غور سے دیکھیں
مذہب کو لیے پھرتے ہیں پگڑی میں جو اپنی
باطل کے ہیں کردار، انہیں غور سے دیکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تصور مصطفیٰؐ کا جان سے بڑھ کر بھی پیارا ہے
ستوں قائم ہے جس سے دل کا یہ واحد سہارا ہے
بھٹکتی پھر رہی تھی دل کی کشتی اس سمندر میں
کنارا دے کے پھر عشقِ محمدﷺ نے سنوارا ہے
سبھی پاتے ہیں انؐ سے روشنی قلبِ معطر کی
بنا کر نور کا مرکز انہیں رب نے اُتارا ہے
حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے
عشق بادیدۂ نم ہو تو غزل ہوتی ہے
پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلی
کوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے
کبھی دنیا ہو کبھی تم کبھی تقدیر خلاف
روز اک تازہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے
زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں
ان کو شاعر نہیں شاعر کا چچا کہتے ہیں
ہم تو پتلی سی چھڑی بھی نہیں کہتے اس کو
لوگ اولاد کو پیری کا عصا کہتے ہیں
صرف افسر اسے کہنا تو کوئی بات نہیں
ہم تو صاحب کو کلرکوں کا خدا کہتے ہیں
لمس اول
یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا
وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی
سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی
جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی
دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے
تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں
جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا
چھٹیں گے مال اور بال بچے تو جبر دل پہ کمال ہو گا
نہ کام آئیں گے یار اس دم نہ بہن بھائی نہ پسر و دختر
پھرے گا سارا جہان ہم سے نہ کوئی پُرسانِ حال ہو گا
کہے گی زوجہ نکالو جلدی، نہ شام آوے اب اس کو گھر پہ
ہو آگ اچھی، وگرنہ گھر میں یہ بھوت بن کر وبال ہو گا
دام بیجوں کے کیوں نہیں گِرتے
کھاد سستی کبھی نہیں ہوتی
بجلی آئے نہ آئے کُٹیا میں
بِل کا ناغہ کبھی نہیں ہوتا
عارِضہ ہو کوئی علاج میں بس
ہانپتی کانپتی ہوئی ماں کی
شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھ
ہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھ
منزل نظر میں ہے نہ کوئی ہمسفر ہے ساتھ
ناکام آرزو کا یہ ذوق سفر تو دیکھ
سینہ میں اضطراب لبوں پر ہنسی لیے
مر مر کے جی رہے ہیں ہمارا ہنر تو دیکھ
میں نے اب سمجھا ہے رازِ کائنات
کر رہا ہوں غم سے تعمیرِ حیات
کس توقع پر بناؤں آشیاں
زندگی ہے اور برقِ حادثات
منزلِ غم اس قدر آساں نہ تھی
رہ گئے منہ دیکھ کر صبر و ثبات
عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے
یار تم کیا ہو کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے
عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا
وہ چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے
میں ترے حسن کا شیدائی نہیں ہو سکتا
روز بٹتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے
اس طرح بھی مِری وحشت نے ریاضت کی ہے
ایک پیارے سے تصور کی حفاظت کی ہے
یوں خدا تیرے میرے درمیاں موجود رہا
کی محبت تو لگا جیسے عبادت کی ہے
میں تہی دست بھلا تجھ کو کیا دے سکتا تھا
ہاں مگر میں نے دعاؤں میں سخاوت کی ہے
درویشوں کی اپنی بولی اپنے راگ اور ساز میاں
دنیا والے کب سمجهے ہیں عشق نگر کے راز میاں
ان کو آگ، ہوا، پانی اور مٹی کیا بتلاتے ہو
جن کی آنکهیں دیکھ چکی ہیں دهرتی کا آغاز میاں
میرے لفظوں کی سچائی سورج بن کر چمکے گی
اگلی نسلوں تک پہنچے گی میری یہ آواز میاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں نے پایا ہے کیا مدینے سے
ہو کے تو بھی تو آ مدینے سے
میری جھولی میں آج جو بھی ہے
مجھ کو سب کچھ ملا مدینے سے
حاضری کی نوید لائی ہے
جب بھی پلٹی دعا مدینے سے
کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا
لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا
نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں
بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا
تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری
کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا
جو تھا ہر آن مبتلا میرا
وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا
ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں
تو نہ کریو کبھی کہا میرا
تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے
کم ہی کم واسطہ رہا میرا
سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا
کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا
پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں
محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا
ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں
کیا جانیے میں کون سی مٹی سے بنا تھا
بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا
ایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیا
پتھر پہ گر کے آئینہ ٹکڑوں میں بٹ گیا
کتنا مِرے وجود کا پیکر سمٹ گیا
کٹتا نہیں ہے سرد و سیہ رات کا پہاڑ
سورج تھا سخت دھوپ تھی دن پھر بھی کٹ گیا
منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے
بھائی جب آج دست و گریبان ہو گئے
ماں باپ چاہتے تھے رہیں اتفاق سے
قربان ان کے آج سب ارمان ہو گئے
بلبل نے میرے ہاتھ میں کلہاڑا دیکھ کر
کہنے لگا یہ باغ اب ویران ہو گئے