Friday, 6 March 2026

انا کی قید سے باہر نکل کے بات کریں

 انا کی قید سے باہر نکل کے بات کریں

تمہارا ذکر جو آئے سنبھل کے بات کریں

اگر یہاں تمہیں نا محرموں کاخطرہ ہے

چلو زمیں سے کہیں اور چل کے بات کریں

سخن سے رنگ نہ میلا ہو اس کی خُوشبو کا

لبوں پہ پھُول چنبیلی کا مل کے بات کریں

لطافتیں تو فقط دوستوں کا حصہ ہیں

عدُو کے سامنے لہجہ بدل کے بات کریں

یہ معجزہ ہو کہ روشن بدن کے ساتھ قمر

دِیے کی طرح ہواؤں میں جل کے بات کریں


کامران قمر

No comments:

Post a Comment