Friday, 1 May 2026

بلاوے بارہا آئے ہیں

 بُلاوے

بارہا آئے ہیں

آوازوں کے ساحل سے

مگر میں

یخ بستہ کشتی کی طرح

گُم سُم پڑا ہوں

سماعت کے سمندر میں

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے

 اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی دروازہ کھلے

ہر طرف درد کے لمبے سائے

راستے پھیل گئے دور گئے

دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز


اجنبی راہگزر سوچتی ہے