صفحات

Friday, 1 May 2026

تری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

 زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں

تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

حقیقت جان لی ہے تیری جب سے

تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں

کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو

مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں

بلاوے بارہا آئے ہیں

 بُلاوے

بارہا آئے ہیں

آوازوں کے ساحل سے

مگر میں

یخ بستہ کشتی کی طرح

گُم سُم پڑا ہوں

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے

 اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی دروازہ کھلے

ہر طرف درد کے لمبے سائے

راستے پھیل گئے دور گئے

دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز


اجنبی راہگزر سوچتی ہے