یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں
ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں
مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی
یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں
میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی
یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں
یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں
ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں
مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی
یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں
میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی
یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں
خُود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے
تُجھ سے ہو کر جُدا بھی دیکھیں گے
کیسے کرتے ہیں ہم سے صَرفِ نظر
ان کی ہم یہ ادا بھی دیکھیں گے
اب کے ساون کی سُرمئی رُت میں
جُگنوؤں کی ضیا بھی دیکھیں گے
زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے
وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ
وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے
ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو
کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے
دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا
عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا
ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا
گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا
ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں
سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا
سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں
خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں
میری چاہت دور ہو کر دیکھتے
مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے
داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر
انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے
نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ
زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے
نروان سے اقتباس
دھیان کی کیاریوں میں
سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں
اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے
آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں
آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں
خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست
تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست
پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم
درد کتنا حسین ہے اے دوست
میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر
یہ تصور کا سین ہے اے دوست
یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا
یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا
قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ
یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا
مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو
ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا
کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا
بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا
جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا
وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا
داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا
ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گزرگاہ سرورﷺ مدینے کی گلیاں
ہے بہتر سے بہتر مدینے کی گلیاں
ادھر سے ہی گزرے ہیں آقاؐ ہمارے
ہے بُو سے معطر مدینے کی گلیاں
یقیناً ہے رشکِ قمر، رشکِ انجم
تمہارا مقدر مدینے کی گلیاں
ایک خط کی چند سطریں
تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا
جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے
اور میری آنکھیں بھی
اور ہاں، ہاتھ بھی
میرے بوسے بھی
اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا
ناروا کو بھی روا کہنا پڑا
یورشِ رنج و مصائب الاماں
زندگی کو اک سزا کہنا پڑا
چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے
دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا
درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں
اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں
اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں
تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں
ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے
ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں
کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی
بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی
تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے
بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی
بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک
تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو
تُو جانتا نہیں مِری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو
تُو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو
وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں
لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر
نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر
شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب
لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر
ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر
لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر
غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے
دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے
جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں
غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے
میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے
مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے
یہ دل میرا اُداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
لیکن تُو آس پاس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
پہلی صفیں اور مسندیں ہوتی ہیں کس لیے
تُو بھی تو خاص الخاص ہے تجھ کو پتہ تو ہے
مُہرے بدل بدل کر پھر ڈوریاں ہلانا
یہ مشغلے ہیں کس کے تجھ کو پتہ تو ہے
دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا
لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ
جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ
شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے
اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ
چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید
ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ
اے کاش
مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں
تیری نمناک آنکھیں
تیرے یہ بے تاب آنسو
مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل
دل میرا کہتا ہے مجھ سے
کانچ کے خواب
جب تِرے کانچ کے
خواب کی کِرچیاں
میرے دل کی زمیں پر
پھواروں کی مانند برسنے لگیں
اور دھنسنے لگیں
ان کی تاثیر سے
جہاں سے دوشِ عزیزاں پہ بار ہو کے چلے
یہ سُوئے مُلکِ عدم شرمسار ہو کے چلے
ہمارے دیکھنے کو خُوش ابھی سے ہیں اعداء
ذرا نہ دیکھ سکے،۔ اشکبار ہو کے چلے
پہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی
ہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے
کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و اداکاری ہے
قہر کا قہر ہے دلداری کی دلداری ہے
التفات نگہ ناز سے بچ کر رہنا
جذبۂ عشق تِرے قتل کی تیاری ہے
شفقتیں زندہ ہیں اخلاص کی بنیادوں پر
اب بھی کچھ لوگوں میں پہلے سی رواداری ہے
چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گِرتے ہیں
مِرے خیال پہ موسم بدل کے گرتے ہیں
لبوں پہ برف کی تہہ، آنکھ میں دہکتا شور
سوال شام کے کاسے میں ڈھل کے گرتے ہیں
خموشیوں میں ہیں مدفون کتنے صدیوں کے گِیت
زباں جو کھولوں تو لمحے پِگھل کے گرتے ہیں
وہ تِرا شہر تِرے شہر کا ہر رنگ جُدا یاد آیا
آنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیا
بے نیازانہ وہ دلداریٔ جاں پُرسشِ غم کی کوشش
آنکھ بھر آئی ہے جب جب تِرا اندازِ وفا یاد آیا
جب دلِ زار ہر اک چیز سے تھک ہار کے اُکتا سا گیا
ایک اک پل جو تِرے ساتھ گزارا تھا بڑا یاد آیا
آستیں مار تو نہیں ہوتا
ہر کوئی یار تو نہیں ہوتا
ہو تو سکتا ہے تھوڑا ہرجائی
یار غدار تو نہیں ہوتا
عشق پہلی نظر میں ہوتا ہے
مرحلہ وار تو نہیں ہوتا
یُوں گُم سُم تُو کیوں لیٹا ہے تارے گِن
جیون میں دُکھ درد ہیں جتنے سارے گن
طُوطی سی آواز سُنے گا کون تِری
ایسا کر لے پیارے اب نقّارے گن
خون بہا کر نِردوشوں کا دھرتی پر
کتنے لوگ لگاتے ہیں جے کارے گن
منزل کا شور سن کے جو پہنچے تو کیا مِلا
اک شخص اک مقام پہ بے دست و پا ملا
ہر مُدعی سے مُدعا اس کا خفا ملا
یاں پیار بھی ملا تو مثلث نما ملا
دوکانِ چارہ گر پہ تو بِکنے لگی اجل
ڈُھونڈ اس فقیر کو جسے دستِ شفا ملا
سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمِیں کب تک
بھِگو کر شاہ رکھے گا لہُو میں آستِیں کب تک
کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں
اُبھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک
بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا
کسی کے جھُوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک
تو کہے تو
تُو کہے تو
میں تیری آنکھوں میں
ڈوب جاؤں صنم سدا کے لیے
تیری آنکھوں کے گہرے ساگر میں
تیرنا مجھ کو اچھا لگتا ہے
آپ مجھ سے مِلے نہیں ہوتے
اتنے شاید گِلے نہیں ہوتے
بات کرنی مجھے بھی آتی ہے
ہونٹھ سب کے سِلے نہیں ہوتے
آ بھی جاؤ اُداس رہتا ہوں
اور مجھ سے گِلے نہیں ہوتے
رُخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے
غیر کا جو رستہ ہے اس کو آج چھوڑ دے
عشق میں انا کا پاس جو ضرور رکھنا ہے
پھر یہ تیرے بس کا کام ہے نہیں یہ چھوڑ دے
آبرو رہی تِری اور وصل بھی نصیب
ہو تِرے نصیب میں یہ اُمید توڑ دے
اُلفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا
ہم اس کے ہو گئے جو ہمارا نہ ہو سکا
جاتے ہیں لوگ کُوئے محبت میں بار بار
ہم سے تو پھر یہ عزم دوبارا نہ ہو سکا
جلوے سے پیشتر ہی کیا اس نے دل طلب
اتنا بھی اعتبار ہمارا نہ ہو سکا
خُوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خُوشی کیوں ہو
گرہن جو چاند کو لگ جائے تو پھر چاندنی کیوں ہو
ادائے حُسن دلکش کو ذرا سمجھے تو یہ دُنیا
توجہ اس میں پنہاں ہے یہ ان کی بے رُخی کیوں ہو
اسے کچھ اور ہی کہیے کہ دل دُکھتا ہے یہ سُن کر
جب اس میں موت شامل ہے تو پھر یہ زندگی کیوں ہو
کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا
میں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتا
خون دل کا ہوا تو یہ جانا
نقش کیوں دیر پا نہیں ہوتا
وقت کیوں ہے غبار آنکھوں میں
عکس بھی آشنا نہیں ہوتا
جینا مُحال، مرنا بھی دُشوار ہو گیا
جب سے یہ جانا میں نے مجھے پیار ہو گیا
کچھ تُو نے اپنا واسطہ دے کر منا لیا
کچھ اپنے دل سے میں بھی تو لاچار ہو گیا
تیرے خیالوں میں لیے بیٹھا تھا میں قلم
غزلوں کا ایک ذہن میں گُلزار ہو گیا
فلمی گیت
برکھا بیرن زرا تھم کے برسو
پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو
پی سے ہے میرا مِلن کیوں ہے ری تجھ کو جلن
ہائے رے پاپن ذرا رک جا ذرا تھم جانا رے
برکھا بیرن ذرا تھم کے برسو
پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو
کیا مِلا سارے جہاں کی خاک ہم کو چھان کر
دم بخود بیٹھے ہیں سناٹے کا خیمہ تان کر
فکر کے تابوت میں سوچوں کی میّت لے گیا
گھر سے نِکلا تھا وہ جانے جی میں کیا کیا ٹھان کر
کس قدر گمبھیرتا تھی اس کی ہر اک بات میں
لے گیا میرا سکوں وہ میرا گھر پہچان کر
سُلگے ہُوئے من کو اب یہ کس نے ہوا دی ہے
بُجھتے ہُوئے شُعلوں نے پھر آگ لگا دی ہے
اک پل جو ہے مُٹھی میں تُم اس کو امر کر لو
بِیتے ہُوئے لمحوں نے کب کس کو صدا دی ہے
تُم لوٹ کے آ جانا جب دل میں کسک جاگے
ہم نے تو ہواؤں کو جو بِیتی سُنا دی ہے
میں پرانا ہو گیا ہوں اب نیا کر دے مجھے
میں ہوں صورت آشنا، دل آشنا کر دے مجھے
وہ میرے پہلو میں بیٹھے دو گھڑی آرام سے
ریشمی سایہ گھنیرے نیم کا کر دے مجھے
ہر نئے دن اک نئی خواہش، نیا عزمِ سفر
بادِ صر صر اور کبھی بادِ صبا کر دے مجھے
پھر لہُو رِسنے لگا ہے پاؤں سے
بہہ رہی ہیں ندیاں صحراؤں سے
چاندنی مجھ سے بہت مانوس ہے
مجھ کو نسبت ہے نا! تیرے گاؤں سے
زندگی تو دُھوپ بھی ہے، چھاؤں بھی
اور میں واقف نہیں ہوں چھاؤں سے
اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں
راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں
وہ مجھے آواز دے گا کس طرح
نام تو میں نے بتایا ہی نہیں
میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا
وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں
نصیبِ خاک پہ کب اہلِ یاریاں اُتریں
فقیر کی نِگہ میں وہ سواریاں اتریں
ہوا ہے سر پہ غرورِ حشم کا بوجھ کتنا
دلوں پہ عدل کی کب باریاں اتریں
خریدا جا رہا ہے خواب اور خوشبوئے زر
کہاں فقیروں پہ یہ بارگاہیاں اتریں
خار چھُونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا
"مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا"
تُو سِتم ڈھا کے بھی افسوس کرے گا مجھ سے
جو مِرے دل پہ لگا زخم ہے بھر جائے گا؟
یہ بتا ساتھ مِرے رختِ سفر باندھے گا؟
یا کہ منزل کے تصور سے ہی ڈر جائے گا
وقتِ رُخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے
کُھل گئی آنکھ مگر خواب کا ڈر باقی ہے
مِل گئے یوں تو ہمیں پھر در و دیوار نئے
گھر کے لُٹ جانے کا احساس مگر باقی ہے
کیسے ٹوٹے گا تِرے چاہے سے رشتہ دل کا
جب تلک تیغ ہے تیری، مِرا سر باقی ہے
کب عہدِ وفا ہو گا اے جانِ وفا جاناں
کب برسے گی شانوں پہ زُلفوں کی گھٹا جاناں
اُمید کے زِنداں سے کب خواب رِہا ہوں گے
اُترے گا خلاؤں سے کب رزقِ بقاء جاناں
مٹی مِری دھرتی کے رنگوں کو ترستی ہے
اُبھرے گا ہتھیلی پہ کب رنگِ حِنا جاناں
جب میں دل کا حساب لِکھتا ہوں
غم کو اپنے گُلاب لکھتا ہوں
کوئی اُمید جب نہیں ہوتی
خُود کے خط کا جواب لکھتا ہوں
اتنا مایوس اس نے کر ڈالا
اس کا جلوہ حجاب لکھتا ہوں
اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو
مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو
یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے
اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو
چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم
تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو
تِرے بدن کو ہوا چھُو کے جب بھی آتی ہے
غزل کا کوئی حسیں شعر گُنگناتی ہے
زمیں ترانۂ دوزخ ابھی بھی گاتی ہے
نئی صدی ہے کہ شہنائیاں بجاتی ہے
یہ اور میرے ارادوں کو پُختہ کر دے گی
جو برق میرے نشیمن پہ دندناتی ہے
نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے
حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے
کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا
ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے
نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے
گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے
آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم
ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم
مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں
قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم
مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے
کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم
فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں مِلتا نہ تھا
شہر کے لوگوں سے اس کا تب کوئی رشتہ نہ تھا
وہ بکھر جاتا تھا ہر سُو ایک خُوشبو کی طرح
میں جُدائی کے شجر پر اس طرح جلتا نہ تھا
زخم کب کے بھر چکے ہیں اس کی یادوں کے مگر
میں لِپٹ کر اس طرح خُود سے کبھی روتا نہ تھا
یہ بھُوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے
کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے
بہت ہُشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں
نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے
کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں
عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے
یہ داغ دل تِرے رُخ کا جواب ہو نہ سکا
چراغ لاکھ جلا،۔ آفتاب ہو نہ سکا
ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں
مِری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر
لہو میں ڈُوب کے کانٹا گُلاب ہو نہ سکا
خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں
اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں
کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے
تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں
مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم
گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
ہوش میں آ کہ بے خبر دورِ جنوں گُزر گیا
وہ نہ اب اس کی رہگزر دور جنوں گزر گیا
کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام
شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا
شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے
گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا
درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا
اور وہ آنسو مِری رات کا جگنو ہو گا💔
کیا خبر تھی کہ صبا کا وہ سبک رو جھونکا
مجھ تلک آئے گا تو آگ بھری لُو ہو گا
میری آنکھوں میں سمٹ جائے تو وہ جسم گُلاب
مِری سانسوں میں بکھر جائے تو خُوشبو ہو گا
ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر
اب میں زندہ ہو گیا ہوں
ایک میں ہی نہیں
یہاں میرے ارد گرد
اور بہت سے
کئی بار
میرے لفظوں سے
میری تحریروں سے
کیا ہونا ہے؟ کُچھ بھی نہیں
ان نظموں میں
ان ساری کتابوں میں
ان باتوں میں کیا ہے؟
عُمرِ رفتہ کا یہ خلاصہ ہے
زِندگانی فقط تماشہ ہے
آج کا ڈُوبتا ہوا یہ دن
ہجر کی عمر میں اضافہ ہے
کیا بتاؤں میں اس کے بارے میں
خوبصورت وہ بے تحاشہ ہے
رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے
پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹
آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے
شاخ صندل کی جلاؤں کیسے
روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے
یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے
کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے
مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے
کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے
کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے
اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں
مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے
یہ وہ جہاں نہیں جہاں آزار ہی نہ ہو
گلزار کون ہے وہ جہاں خار ہی نہ ہو
اچھا ہے ان سے کوئی سروکار ہی نہ ہو
جن دوستوں میں جوہر ایثار ہی نہ ہو
اس بزم شب کے حشر پہ روتا ہے وقت بھی
جو انقلاب دہر سے بیدار ہی نہ ہو
یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی
دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی
ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے
باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی
دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے
"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"
دنیا کی محبت میں مِلا کچھ بھی نہیں ہے
دو روز کی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کہتے تھے کہ ہم بچھڑے تو مر جائیں گے دونوں
بچھڑے ہیں تو دونوں کو ہوا کچھ بھی نہیں ہے
انصاف کا پیمانہ تو ہے زندہ ضمیری ⚖
بے حِس ہوں تو پھر اچھا بُرا کچھ بھی نہیں ہے
وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے
لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے
یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں
اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے
گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ
خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے
خواب تلاشی
وہ میری آنکھوں میں
بھاری جُوتوں سمیت آ کر
یہ پُوچھتے ہیں
یہ عکس کیا ہے
کہاں سے آیا ہے
کیسے منظر سے
اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے
عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے
پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں
اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے
کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں
باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے
ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے
تم کرو مشقِ سِتم خیر تمہیں کیا اس سے
صُبحِ نو اب ہے شبِ غم میں بدلنے والی
پھر نہ مِل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے
یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر
کتنے رُسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے
یارو خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا
انساں جسے بنایا تھا حیوان ہو گیا
بھیجا تھا اس کو امن کی خاطر جہان میں
کیسے خلاف امن کے انسان ہو گیا
شیطان کا بھی شرم سے دیکھو جھکا ہے سر
انسان خود ہی آج تو شیطان ہو گیا
دل لگانے کی بھول تھے پہلے
اب جو پتھر ہیں پھول تھے پہلے
مدتوں بعد وہ ہوا قائل
ہم اسے کب قبول تھے پہلے
اس سے مل کر ہوئے ہیں کارآمد
چاند تارے فضول تھے پہلے
تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے
بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے
غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو
صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے
تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں
ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے
قلبِ نمرود میں ہے شعلۂ سوزاں پیدا
ہونے والا ہے کوئی بندۂ یزداں پیدا
ننگِ پروانہ مزاجی ہے یہ شعلہ طلبی
دل کے ہر داغ سے کر شمعِ فروزاں پیدا
کیا ملائے گی فروغِ دلِ مومن سے نگاہ
وہ سحر جس سے ہوئی شامِ غریباں پیدا
دلاسہ
بے تاب ہیں امید کے خوشرنگ پرندے
آ جاؤ ناں آ جاؤ ناں آ جاؤ بھی اب تم
افسوس
میری صدا تم تک نہیں پہنچتی
ورنہ تم ضرور لبیک کہتے
راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو
یا نہیں اس پر تصدّق اپنا جسم و جاں کرو
کاں تلک خاطر رکھو گے آرزو میں تنگ کر
غُنچۂ دل بادِ صبا سُوں عشق کے خنداں کرو
خانۂ دل 💕 کو رکھو آباد حق کی یاد سُوں
عشق کی آتش سُوں تن کو جال کر ویراں کرو
موت
اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تُو
سب سے بڑھ کر ہے زمانے میں بلا انگیز تُو
چھیننا بچوں کا ماؤں سے تجھے مرغوب ہے
خاتمہ ہستی کا میری کس لیے مطلوب ہے
گُلشنِ ہستی ہے تیرے ہاتھ سے وقفِ خزاں
چند دن کی میہماں ہے یہ بہارِ بُوستاں
اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں
تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں
وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر
ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں
ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی
میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں
کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھُول جاتا ہے
کوئی کتنا ہی پیارا ہو زمانہ بھول جاتا ہے
کسی دن بے نیازی اس کی مجھ کو مار ڈالے گی
خفا کرتا ہے وہ لیکن منانا بھول جاتا ہے
رُخ روشن پہ زُلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے
اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وجودِ پاکﷺ ہے کتنا محبت آفرین تیرا
نہیں ثانی کوئی اے رحمۃ اللعالمینﷺ تیرا
ذرا اس اتحادِ حسن و الفت کو کوئی دیکھے
تو کعبے کو مکیں کا اور کعبے کا مکیں تیرا
تصور تیرا جنت ہے، محبت تیری بخشش ہے
یہ رتبہ اور یہ درجہ شفیع المذنبیںﷺ تیرا
جب تلک وہ نظر نہیں آتا
درد دل کا ابھر نہیں آتا
جس کے حصہ میں ہوں سفرنامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا
یہ محبت کی ایک خوبی ہے
عیب کوئی نظر نہیں آتا
درد جو دل میں ہے چُھپانا ہے
چشمِ پُر نم کو آزمانا ہے
حسرتیں ہیں دُھواں دُھواں ہر سُو
خواہشوں کو مگر بچانا ہے
اپنی پلکوں کو باندھ کر رکھیے
قیمتی سا یہاں خزانہ ہے
اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے
دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے
میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا
آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے
ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں
دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے
عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے
نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے
لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو
وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے
تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی
جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے
نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے
میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے
وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا
فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے
عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی
یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے
کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا
کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا
چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی
تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا
جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی
مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا
مِرے سامنے جو صلِیب ہے
وہ صلیب میرا نصیب ہے
جسے زندگی کی طلب نہیں
وہی زندگی کے قریب ہے
اسے غم ملیں یا ملے خوشی
یہ تو آدمی کا نصیب ہے
دیدۂ اشکبار نے مارا
آہِ بے اختیار نے مارا
دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو
ایک جانِ بہار نے مارا
خُلد کی حُسن کاریاں توبہ
رُوئے رنگینِ یار نے مارا
عادتاً مایُوس اب تو شام ہے
ہِجر تو بس مُفت ہی بدنام ہے
آج پھر دُھندلا گیا میرا خیال
آج پھر الفاظ میں کُہرام ہے
الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس
رات کو اب چین ہے آرام ہے
شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا
دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗
سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا
کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا
تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی
نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رفعتِ شانِ احمدیﷺ
اے کہ تِرے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز
اے کہ تِرا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات
اے کہ تِرا سرِ نیاز حدِ کمالِ بندگی
اے کہ تِرا مقامِ عشق قربِ تمام عین ذات
اے کہ تِری زبان سے ربِ قدیر گلفشاں
وحئ خدائے لم یزل تھی تِری ایک ایک بات
اے کہ تُو فخرِ آدمی، واقفِ سرِّ عالمی
لوح و قلم س بے نیاز تیرے علوم شش جہات
تِرے بیاں سے کھل گئیں تِرے عمل سے حل ہوئیں
منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات
خوگرِ بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے
مالکِ مصر و کاشغر، وارثِ دجلہ و فرات
مجھ سے بیاں ہو کس طرح رفعتِ شانِ احمدیﷺ
تنگ مِرے تصورات، پست مِرے تخیلات
نواب بہادر یار جنگ
اصل نام؛ محمد بہادر خان
تخلص؛ خلق
ساجن
دل کی بھٹی میں
جانے کیسا لاوا تھا
اتنی تیز تپش تھی جس میں
جل کر غم بھی راکھ ہوا
نجمہ نسیم
لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں
وقت مطلب قریب ہوتے ہیں
جن کو دنیا امیر کہتی ہے
دل کے بے حد غریب ہوتے ہیں
پیار اک ایسا روگ ہے جس کے
حسن والے طبیب ہوتے ہیں
ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی
گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی
میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا
کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی
بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی
بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی
خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے
اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے
رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا
تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے
تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں
بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے
اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو
ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو
وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا
اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو
جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے
روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے
شُنیدِ سیدِ عالی وقارﷺ ہو جائے
زبانِ خامہ میں ایماں کی روشنائی ہے
حضورﷺ ہدیۂ یک زرنگار ہو جائے
جوازِ لکنتِ کذب و ریا رہے کیونکر
درودِ اسمِ نبیﷺ بے شمار ہو جائے
اور پتھر کی ہو جائے گی
درد ملے تو رو بھی لینا
آنکھ میں ساون بو بھی لینا
دیکھ سہیلی چپ نہ رہنا
اندر اندر دکھ نہ سہنا
ورنہ
گھٹ کر مر جائے گی
رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا
خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا
کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف
دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا
جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے
اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا
کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے
قفس سونے کا بھی ہو آشیاں ہم کہہ نہیں سکتے
کوئی کہہ دے زباں رکھنے کا منہ میں فائدہ کیا ہے
کسی کے سامنے جب داستاں ہم کہہ نہیں سکتے
نہ جانے کیا اثر ہوتا ہے ہم پر ان کی محفل میں
یہاں کہتے ہیں ہم وہاں جو کچھ وہاں ہم کہہ نہیں سکتے
بیٹیاں پرائی ہیں
یہ عجب جہالت ہے
لوگ یہ سمجھتے ہیں
بیٹیاں پرائی ہیں؟
حق انہیں نہیں دینا
بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا
کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟
یہ رنگ و نور کی برسات چار سُو کیا ہے
یہ تُو نہیں ہے تو پھر اور رُو برُو کیا ہے
تِرے سوا دلِ ناداں کی آرزو کیا ہے
جو مل گیا ہے مجھے تُو، تو جستجو کیا ہے
قریب جا کے جو دیکھا تو ہو گیا روشن
تِرے وجود میں شامل رفُو رفُو کیا ہے
دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو
ہر لمحہ اپنی جاں سے گزرتے ہو صاحبو
کیا جانے کیا ہے بات کہ ہر سمت بھیڑ میں
اپنا ہی چہرہ دیکھ کے ڈرتے ہو صاحبو
تم بھی عجیب لوگ ہو کانٹوں کی راہ سے
کیسے لہولہان گزرتے ہو صاحبو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ کا ذکر ہے یعنی درودﷺ لازم ہے
یہاں خلوص سے لپٹا وجود لازم ہے
یہ کوئی عام وظیفہ نہیں خدا کی قسم
نماز پڑھتے ہوئے بھی درودﷺ لازم ہے
بنا کے سیدِ لولاکﷺ کہہ دیا رب نے
ہمارے بعد نبیﷺ کا وجود لازم ہے
یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا
کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا
وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے
آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا
غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا
میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا
لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی
اس ستمگر کی پردہ داری کی
فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری
کھیت کی ہم نے آبیاری کی
رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا
اس نے کچھ ایسے غمگساری کی
نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے
جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے
مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا
کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے
تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں
کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے
گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا
آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا
اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے
جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا
مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب
میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بحرِ تحیّرات ہے میرے نبیﷺ کی ذات
دکھ درد سے نجات ہے میرے نبیؐ کی ذات
جتنے بھی ان کی یاد میں لمحے گزر گئے
وہ دائمی حیات ہے میرے نبیؐ کی ذات
مل جائے گا سکوں تمہیں قلب و جگر کا یاں
تکمیلِ کائنات ہے میرے نبیؐ کی ذات
نغمۂ اسلام
نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا
خوابِ غفلت سے مسلماں کو جگایا جائے گا
دیکھتی ہے خواب ہندو راج ہی کے کانگرس
خاک میں اس کے ارادوں کو ملایا جائے گا
سنگدل انگریز بھی سُن لے یہ گوشِ ہوش سے
راہ میں پتھر جو آئے گا ہٹایا جائے گا
عجیب شہر ستمگر ہے کیا کِیا جائے
لہو لہان کبوتر 🕊 ہے کیا کیا جائے
ٹھہر ٹھہر کے اسے پڑھ رہا ہوں میں لیکن
وہ ایک حرفِ مکرّر ہے کیا کیا جائے
بہت قریب سے مِلنے میں ڈر سا لگتا ہے
’’ہر آستین میں خنجر ہے کیا کیا جائے‘‘
دید جاناں جو عام ہو جائے
کارِ دنیا تمام ہو جائے
رُوٹھ جائے وہ صبح ہوتے ہی
اور منانے میں شام ہو جائے
میکدے میں نماز پڑھ لیں گے
کاش ساقی امام ہو جائے
کچھ یُوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا
بس خال و خد سے رہ گئے چہرہ چلا گیا
افسانہ میرے جہد کا اتنا سا تھا کہ میں
اندیشۂ یقین سے لڑتا چلا گیا
آیا نہیں پلٹ کے اُجالا کبھی یہاں
حالانکہ گھر سے کب کا اندھیرا چلا گیا
دلوں پر بار ہوتی جا رہی ہے
زباں تلوار ہوتی جا رہی ہے
ٹھہر جائے نہ نبضِ دل مِری اب
وفا لاچار ہوتی جا رہی ہے
زمیں کے مسئلوں کا حل تلاشو
زمیں آزار ہوتی جا رہی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ارض و سما میں خدا ہی دیکھا
ہر جا جلوہ تیرا ہی دیکھا
شاہانِ عالی کو بھی اکثر
تیرے در پر گدا ہی دیکھا
تیری کتابِ لاریب میں بھی
نورِ ہدایت رچا ہی دیکھا
یادِ کشمیر
کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے
باغِ ارم کا نقشہ کھینچا ہوا یہاں ہے
چاروں طرف کھنچی ہے دیوارِ کوہ تیرے
آبِ رواں کا نقشہ ہر اک طرف رواں ہے
کب چاہتا ہے دریا جہلم یہاں سے گزرے
کشمیر حُسن اپنا کرتا جو تُو عیاں ہے
سارے جہاں کو میں نے اکٹھا نہیں کِیا
بس صبر کر لیا ہے، تماشہ نہیں کیا
دُنیا مجھے فریب تو دیتی رہی، مگر
میں نے کسی کے ساتھ بھی دھوکا نہیں کیا
اُس کو بھی میرے ساتھ عدالت میں لائیے
میں نے گُناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا
کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ
ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ
کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں
ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ
چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے
خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ
حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا
آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا
آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا
رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا
ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں
ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا
یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں
خار سے گل کے چاک سلتے ہیں
ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے
کارواں کے غبار ملتے ہیں
یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں
بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں
آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد
ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد
مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد
آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد
وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر
ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد
سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا
جینا کیا سیکھا، مر جانا سیکھ لیا
دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی
بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا
کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں
خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا
تکنیک
دوستی کو معتبر میں نے کیا
حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا
کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں
جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟
جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے
اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا
جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے
سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے
رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے
اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے
سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول
آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے
تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے
تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے
کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں
تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں
راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ
جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ
تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ
یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ
خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ
کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ
سنو گرمی بہت ہے
اے سی بھی ٹھیک کروایا
پھر بھی چل نہیں رہا
اچھا سنو
کیا تمہاری طرف آ جاؤں؟
دو دن سے سوئی نہیں
ہے عبث حُسن کا غرُور گُھمنڈ
کس کا قائم رہا غرور گھمنڈ
خاک و خُوں میں مِلا دیا اس کو
جس کے سر پر چڑھا غرور گھمنڈ
خاکساری ہے شیوۂ انساں
نہیں ہرگز روا غرور گھمنڈ
وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟
تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر
کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے
بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر
کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول
رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر
اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے
میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے
مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر
جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے
حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی
غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے
تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے
جو زخم کھا کے گیا ہے پلٹ بھی سکتا ہے
ابھی بساط بچھی،۔ ابھی غرور نہ کر
سنبھل کے چل کہ یہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے
وہ شخص جس کا تکلم تمہیں پسند نہیں
وہ شخص سینکڑوں لہجوں میں بٹ بھی سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خالقِ کُل نے بھی کی ثنائے نبیﷺ
رحمتِ دو جہاں بن کے آئے نبیﷺ
آپﷺ کی زیست قرآن کی تفسیر ہے
معجزے کیوں نہ ہم کو دکھائے نبیﷺ
اپنی اپنی جگہ سب نے تعظیم دی
تھے شجر اور حجر آشنائے نبیﷺ
اگر میں کھڑا ہوتا ہوں
تو چھت سے ٹکراتا ہوں
اگر سیدھا ہوتا ہوں
تو دیوار سامنے آ جاتی ہے
کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے
یہیں، محدود ہو کر
چل دئیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا
ہم سے ٹالا نہ گیا،۔ حکم تمہارا جو ہوا
تم نہ سمجھو گے جدائی کی اذیت کو ابھی
تم کو اغیار کی بانہوں کا سہارا جو ہوا
عشق میں حرفِ مُکرر کا میں قائل تو نہیں
تم ہی سے ہو گا یہ بالفرض دوبارہ جو ہوا
جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب
لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب
ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن
جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب
شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا
گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب
کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو
اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو
گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر
کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو
شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی
تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے
ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے
شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی
ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے
تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں
ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے
خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں
ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں
جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں
نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں
کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں
ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں
شیشۂ ساعت کا غبار
میں زندہ تھا
مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا
ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی
نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم
تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم
مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے
دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں
اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں
پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں
اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں
بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم
وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں
موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس
ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس
عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے
نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس
اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں
کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیﷺ ہے
اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے
میں کیوں دربدر جا کے دامن پساروں
نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے
انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا
نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے
زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا
بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا
پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں
پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا
میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے
عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا
بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے
یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے
تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے
سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے
وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں
اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے
ہے بہار زندگانی چند روز
رونقِ عہدِ جوانی چند روز
رنج و غم میں زندگی ساری کٹی
پر نہ دیکھی شادمانی چند روز
جب کیے ہم پر کیے جور و ستم
کہ نہ تم نے مہربانی چند روز
کام کب رک کے خود روا نہ ہوا
کب مِرا درد ہی دوا نہ ہوا
اون سے سے میرا کوئی بھلا
یہ بھی سچ پوچھو تو بُرا نہ ہوا
تھا عیاں جس کی بات بات سے رحم
ظلم میں روکشِ زمانہ ہوا
عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں
اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے
مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا
رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا
کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی
اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا
تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی
لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا
عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک
وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک
یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر
ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد
جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد
سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں
آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد
تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے
دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد
نظم "دل میں چُھپائی دوسری عورت" سے اقتباس
عورت ظالم ہے
وہ ظلم کرتی ہے خود کے ساتھ
بظاہر انجان لیکن
غم کا پہاڑا یاد کرتے کرتے ہر روز سسکتی ہے
اور تمام عمر نہیں بھول پاتی
خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے
یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں
تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
باپ کی نصیحت
سر سے دوپٹے اُٹھائے اور گلے میں ڈال کر
باپ کی پگڑی گرانے کو چلی ہیں بیٹیاں
محرم و نامحرمی کی بندشیں سب توڑ کر
اجنبی محفل سجانے کو چلی ہیں بیٹیاں
عصمتیں لٹ جائیں گی پھر روئیں گی چلائیں گی
ہاتھ کچھ نہ آئے گا پھر وہ فقط پچھتائیں گی
فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں
جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں
جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں
وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں
کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو
جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں
جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا
دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی
بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی
قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی
لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں
رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں
کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے
آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں
ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں
ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں
رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے
آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے
یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے
ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب
زندگی کوئی خطا ہو جیسے
گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے
شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے
گھڑ لیے لوگوں نے افسانے
ہم نے تو بس آہ بھری ہے
کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا
درد سری ہے، دربدری ہے
بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے
خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے
خبر شہرِ سبا سے کون لائے
کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے
نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم
کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے
قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں
اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں
شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے
🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷
ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید
غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں
کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرُور سے
تِرے زاویے پہ ہی گُھومتا ہوا آ گیا کوئی دُور سے
تجھے اتنے پاس سے دیکھ لے کوئی اہل ہے نہ یہ سہل ہے
کبھی جسم گُھلتا ہے آگ میں، کبھی آنکھ جلتی ہے نُور سے
مجھے کوئی فکرِ فنا بھی کیا، میں تو جانتا ہوں بقا ہے کیا
تجھے ڈُھونڈنے سے نہیں ملا میں نے پا لیا ہے شعُور سے
نہیں پروا کوئی زمانے کی
کون کیا سوچتا ہے کس کے لیے
مقصد زیست کامیابی ہے
وقت کیا چاہتا ہے کس کے لیے
صنف نازک ہوں یوں تو کہنے کو
حوصلے ہیں چٹان کے مانند
ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف
نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف
کئی راستے تھے مرے سامنے
چُنا میں نے اک راستہ مختلف
میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں
بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف
پیشِ پا اُفتادگی میں کُو بہ کُو کیا دیکھتے
کون تھا کس سمت محوِ جستجو کیا دیکھتے
آمد آئینہ رو سے یہ سبھی مے خوارِ نو
گر رہے ہیں ہاتھ سے سب کے سبو‘ کیا دیکھتے
ہو رہا ہے کیا ہجوم بے طرح سے ارد گرد
جو بھی تھے شیریں سخن کے روبرو کیا دیکھتے
حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر
نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر
خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد
کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر
تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل
کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر
سنتوش آنند جی کے لیے ایک نظم
دور کہیں ویرانے میں
اک کچے گھر کی کھڑکی کھلتی ہے
اور شام ڈھلے سہمے پیڑوں کو وہ ایک گیت سناتی ہے
جو تو نے لکھا ہے
اک بوڑھا جس نے راتوں میں چاند کی ساری شکلیں دیکھی ہیں
(فارسی) عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نذرِ بارگاہِ رسالتﷺ
والضحیٰ تفسیر رُوئے مصطفیٰﷺ
ہست واللیل عکسِ مُوئے مصطفیٰﷺ
کرد روشن تیرہ دانِ قلب 💓را
شمعِ داغِ عشق رُوئے مصطفیٰﷺ
آستانِ اُوست سجدہ گاہِ خلق
کعبہ کعبہ است کُوئے مصطفیٰﷺ
یہ زلیخا مزاج رُوح مِری
وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی
آج تہمت نئی لگی مجھ پر
آج حُجرے میں روشنی ہو گی
دل طوافِ حبیب میں گُم ہے
رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی
میری غزلوں میں جو روانی ہے
شرحِ غم ہائے زندگانی ہے
جو ملا ہے مجھے شعورِ سخن
اک ستمگر کی مہربانی ہے
تم نہیں، تو نہیں اور آپ نہیں
اک مخاطب پسِ معانی ہے
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے
آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے
اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی
دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے
رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا
کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے
ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے
بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے
نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے
جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے
ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا
یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے
اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر
تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر
مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر
رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر
تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر
اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پائیں ضیا ادھر ہو اگر جان جاں کا رُخ
تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ
بستر کی سلوٹیں نہ گئیں اتنی دیر میں
لوٹ آئے کر کے میرے نبیؐ لامکاں کا رخ
خوش ہوں بہت نصیب کی کلیاں کھلی ہیں آج
دل نے کیا ہے آج تِرے گلستاں کا رخ
کالی لمبی راتیں
چاند اور تیری باتیں
کِواڑوں سے جھانکتی یادیں
گہری اُلجھی سوچیں
سرہانوں کی سرگوشیاں
اور خاموش سِسکیاں
کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں
یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں
ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے
وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں
تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے
عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں
اپنے سائے کو بھی اسیر بنا
بہتے پانی پہ اک لکیر بنا
صرف خیرات حرف و صوت کی دے
شہر فن کا مجھے امیر بنا
شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے
گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا
دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے
آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے
جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست
آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے
آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن
ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے
سیاست
وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال
وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال
اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج
دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال
اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں
دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال
ہم کہ ناچار اور کیا کرتے
مان لی ہار اور کیا کرتے
اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ
اس سے تکرار اور کیا کرتے
پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی
پیشِ دیوار اور کیا کرتے
ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے
یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے
عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا
نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے
غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر
وہی دل میں سموتا جا رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جشن آمد رسولﷺ اللہ ہی اللہ
بی بی آمنہؑ کے پھول اللہ ہی اللہ
جب کہ سرکارﷺ تشریف لانے لگے
حُور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے
ہر طرف نُور کی روشنی چھا گئی
مصطفیٰﷺ کیا ملے زندگی مل گئی
غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت
کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے
کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے
"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"
ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس
توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے
وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ
پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے
مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور
کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور
تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی
لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور
پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے
میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور
بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا
یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا
قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے
اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا
میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے
تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا
خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں
اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے
اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر
مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے
وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے
کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے
پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو
جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو
سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو
میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو
خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے
خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو
زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں
تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں
حقیقت جان لی ہے تیری جب سے
تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں
کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو
مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں
اجنبی راہگزر سوچتی ہے
کوئی دروازہ کھلے
ہر طرف درد کے لمبے سائے
راستے پھیل گئے دور گئے
دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز
اجنبی راہگزر سوچتی ہے