صفحات

Sunday, 31 May 2026

یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں

 یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں

ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں

مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی

یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں

میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی

یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں

خود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے

 خُود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے

تُجھ سے ہو کر جُدا بھی دیکھیں گے

کیسے کرتے ہیں ہم سے صَرفِ نظر

ان کی ہم یہ ادا بھی دیکھیں گے

اب کے ساون کی سُرمئی رُت میں

جُگنوؤں کی ضیا بھی دیکھیں گے

زباں دراز سے حسن کلام کرتے ہوئے

 زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے 

میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے 

وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ

وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے

ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو

کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے 

دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

 دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا

ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا

گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا

ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں

سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

 سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں

خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں

محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے

یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں

مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی

نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں

میری چاہت دور ہو کر دیکھتے

 میری چاہت دور ہو کر دیکھتے

مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے

داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر

انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے

نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ

زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے

Saturday, 30 May 2026

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

 نروان سے اقتباس


دھیان کی کیاریوں میں

سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں

اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے

آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

 خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست

پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم

درد کتنا حسین ہے اے دوست

میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر

یہ تصور کا سین ہے اے دوست

یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہوا

 یہ  سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا

یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا

قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ

یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا

مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو

ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا

Friday, 29 May 2026

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا

بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا

جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا

وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا

داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا

ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا

گزرگاہ سرور مدینے کی گلیاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گزرگاہ سرورﷺ مدینے کی گلیاں

ہے بہتر سے بہتر مدینے کی گلیاں

ادھر سے ہی گزرے ہیں آقاؐ ہمارے

ہے بُو سے معطر مدینے کی گلیاں

یقیناً ہے رشکِ قمر، رشکِ انجم

تمہارا مقدر مدینے کی گلیاں

تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

 ایک خط کی چند سطریں


تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے

اور میری آنکھیں بھی

اور ہاں، ہاتھ بھی

میرے بوسے بھی 

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

 اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا

ناروا کو بھی روا کہنا پڑا

یورشِ رنج و مصائب الاماں

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے

دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا

دریچے پر دیے رکھے ہوئے ہیں

 درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں

اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں

اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں

تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں

ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے

ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں

Thursday, 28 May 2026

کسی کی یاد مرے دل میں اس طرح آئی

 کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی

بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی

تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے

بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی

بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک

تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

  انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے


ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے

چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر

محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو

 انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے


اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو

ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو

تُو جانتا نہیں مِری چاہت عجیب ہے

مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو

تُو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر

اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

 وصال


ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے

دیکھو تو سہی

زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے

مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں

لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر

 لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر

نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر

شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب

لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر

ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر

لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

 غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے

جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں

غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے

میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے

مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے

Wednesday, 27 May 2026

یہ دل میرا اداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

 یہ دل میرا اُداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

لیکن تُو آس پاس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

پہلی صفیں اور مسندیں ہوتی ہیں کس لیے

تُو بھی تو خاص الخاص ہے تجھ کو پتہ تو ہے

مُہرے بدل بدل کر پھر ڈوریاں ہلانا

یہ مشغلے ہیں کس کے تجھ کو پتہ تو ہے

دل کے ہر ایک گوشے میں رقص شرر ہوا

 دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا

جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا

لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا

دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا

اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر

میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا

لوگ ملتے ہیں گلے یوں دل بیزار کے ساتھ

 لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ

جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ

شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے

اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ

چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید

ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ

مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں تیری نمناک آنکھیں

 اے کاش


مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں

تیری نمناک آنکھیں

تیرے یہ بے تاب آنسو

مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل

دل میرا کہتا ہے مجھ سے

بارش ہوئی اور پلکوں پہ جگنو چمکنے لگے

 کانچ کے خواب


جب تِرے کانچ کے 

خواب کی کِرچیاں 

میرے دل کی زمیں پر 

پھواروں کی مانند برسنے لگیں

اور دھنسنے لگیں 

ان کی تاثیر سے

Tuesday, 26 May 2026

جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے

 جہاں سے دوشِ عزیزاں پہ بار ہو کے چلے

یہ سُوئے مُلکِ عدم شرمسار ہو کے چلے

ہمارے دیکھنے کو خُوش ابھی سے ہیں اعداء

ذرا نہ دیکھ سکے،۔ اشکبار ہو کے چلے

پہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی

ہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے

کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و اداکاری ہے

 کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و اداکاری ہے

قہر کا قہر ہے دلداری کی دلداری ہے

التفات نگہ ناز سے بچ کر رہنا

جذبۂ عشق تِرے قتل کی تیاری ہے

شفقتیں زندہ ہیں اخلاص کی بنیادوں پر

اب بھی کچھ لوگوں میں پہلے سی رواداری ہے

چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گرتے ہیں

 چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گِرتے ہیں

مِرے خیال پہ موسم بدل کے گرتے ہیں

لبوں پہ برف کی تہہ، آنکھ میں دہکتا شور

سوال شام کے کاسے میں ڈھل کے گرتے ہیں

خموشیوں میں ہیں مدفون کتنے صدیوں کے گِیت

زباں جو کھولوں تو لمحے پِگھل کے گرتے ہیں

وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیا

 وہ تِرا شہر تِرے شہر کا ہر رنگ جُدا یاد آیا

آنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیا

بے نیازانہ وہ دلداریٔ جاں پُرسشِ غم کی کوشش

آنکھ بھر آئی ہے جب جب تِرا اندازِ وفا یاد آیا

جب دلِ زار ہر اک چیز سے تھک ہار کے اُکتا سا گیا

ایک اک پل جو تِرے ساتھ گزارا تھا بڑا یاد آیا

بے سبب پیار تو نہیں ہوتا

 آستیں مار تو نہیں ہوتا

ہر کوئی یار تو نہیں ہوتا

ہو تو سکتا ہے تھوڑا ہرجائی

یار غدار تو نہیں ہوتا

عشق پہلی نظر میں ہوتا ہے

مرحلہ وار تو نہیں ہوتا

یوں گم سم تو کیوں لیٹا ہے تارے گن

 یُوں گُم سُم تُو کیوں لیٹا ہے تارے گِن

جیون میں دُکھ درد ہیں جتنے سارے گن

طُوطی سی آواز سُنے گا کون تِری

ایسا کر لے پیارے اب نقّارے گن

خون بہا کر نِردوشوں کا دھرتی پر

کتنے لوگ لگاتے ہیں جے کارے گن

Monday, 25 May 2026

منزل کا شور سن کے جو پہنچے تو کیا ملا

 منزل کا شور سن کے جو پہنچے تو کیا مِلا

اک شخص اک مقام پہ بے دست و پا ملا

ہر مُدعی سے مُدعا اس کا خفا ملا

یاں پیار بھی ملا تو مثلث نما ملا

دوکانِ چارہ گر پہ تو بِکنے لگی اجل

ڈُھونڈ اس فقیر کو جسے دستِ شفا ملا

سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک

 سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمِیں کب تک

بھِگو کر شاہ رکھے گا لہُو میں آستِیں کب تک

کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں

اُبھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک

بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا

کسی کے جھُوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک

تو کہے تو میں تیری آنکھوں میں ڈوب جاؤں

 تو کہے تو


تُو کہے تو

میں تیری آنکھوں میں

ڈوب جاؤں صنم سدا کے لیے

تیری آنکھوں کے گہرے ساگر میں

تیرنا مجھ کو اچھا لگتا ہے

آپ مجھ سے ملے نہیں ہوتے

 آپ مجھ سے مِلے نہیں ہوتے

اتنے شاید گِلے نہیں ہوتے

بات کرنی مجھے بھی آتی ہے

ہونٹھ سب کے سِلے نہیں ہوتے

آ بھی جاؤ اُداس رہتا ہوں

اور مجھ سے گِلے نہیں ہوتے

رخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

 رُخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

غیر کا جو رستہ ہے اس کو آج چھوڑ دے

عشق میں انا کا پاس جو ضرور رکھنا ہے

پھر یہ تیرے بس کا کام ہے نہیں یہ چھوڑ دے

آبرو رہی تِری اور وصل بھی نصیب

ہو تِرے نصیب میں یہ اُمید توڑ دے

الفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

 اُلفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

ہم اس کے ہو گئے جو ہمارا نہ ہو سکا

جاتے ہیں لوگ کُوئے محبت میں بار بار

ہم سے تو پھر یہ عزم دوبارا نہ ہو سکا

جلوے سے پیشتر ہی کیا اس نے دل طلب

اتنا بھی اعتبار ہمارا نہ ہو سکا

Sunday, 24 May 2026

خوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خوشی کیوں ہو

 خُوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خُوشی کیوں ہو

گرہن جو چاند کو لگ جائے تو پھر چاندنی کیوں ہو

ادائے حُسن دلکش کو ذرا سمجھے تو یہ دُنیا

توجہ اس میں پنہاں ہے یہ ان کی بے رُخی کیوں ہو

اسے کچھ اور ہی کہیے کہ دل دُکھتا ہے یہ سُن کر

جب اس میں موت شامل ہے تو پھر یہ زندگی کیوں ہو

کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

 کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

میں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتا

خون دل کا ہوا تو یہ جانا

نقش کیوں دیر پا نہیں ہوتا

وقت کیوں ہے غبار آنکھوں میں

عکس بھی آشنا نہیں ہوتا

جینا محال مرنا بھی دشوار ہو گیا

 جینا مُحال، مرنا بھی دُشوار ہو گیا

جب سے یہ جانا میں نے مجھے پیار ہو گیا

کچھ تُو نے اپنا واسطہ دے کر منا لیا

کچھ اپنے دل سے میں بھی تو لاچار ہو گیا

تیرے خیالوں میں لیے بیٹھا تھا میں قلم

غزلوں کا ایک ذہن میں گُلزار ہو گیا

برکھا بیرن زرا تھم کے برسو

 فلمی گیت


برکھا بیرن زرا تھم کے برسو

پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو


پی سے ہے میرا مِلن کیوں ہے ری تجھ کو جلن

ہائے رے پاپن ذرا رک جا ذرا تھم جانا رے

برکھا بیرن ذرا تھم کے برسو

پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو

کیا ملا سارے جہاں کی خاک ہم کو چھان کر

 کیا مِلا سارے جہاں کی خاک ہم کو چھان کر

دم بخود بیٹھے ہیں سناٹے کا خیمہ تان کر

فکر کے تابوت میں سوچوں کی میّت لے گیا

گھر سے نِکلا تھا وہ جانے جی میں کیا کیا ٹھان کر

کس قدر گمبھیرتا تھی اس کی ہر اک بات میں

لے گیا میرا سکوں وہ میرا گھر پہچان کر

سلگے ہوئے من کو اب یہ کس نے ہوا دی ہے

 سُلگے ہُوئے من کو اب یہ کس نے ہوا دی ہے

بُجھتے ہُوئے شُعلوں نے پھر آگ لگا دی ہے

اک پل جو ہے مُٹھی میں تُم اس کو امر کر لو

بِیتے ہُوئے لمحوں نے کب کس کو صدا دی ہے

تُم لوٹ کے آ جانا جب دل میں کسک جاگے

ہم نے تو ہواؤں کو جو بِیتی سُنا دی ہے

میں پرانا ہو گیا ہوں اب نیا کر دے مجھے

 میں پرانا ہو گیا ہوں اب نیا کر دے مجھے

میں ہوں صورت آشنا، دل آشنا کر دے مجھے

وہ میرے پہلو میں بیٹھے دو گھڑی آرام سے

ریشمی سایہ گھنیرے نیم کا کر دے مجھے

ہر نئے دن اک نئی خواہش، نیا عزمِ سفر

بادِ صر صر اور کبھی بادِ صبا کر دے مجھے

Saturday, 23 May 2026

پھر لہو رسنے لگا ہے پاؤں سے

 پھر لہُو رِسنے لگا ہے پاؤں سے

بہہ رہی ہیں ندیاں صحراؤں سے

چاندنی مجھ سے بہت مانوس ہے

مجھ کو نسبت ہے نا! تیرے گاؤں سے

زندگی تو دُھوپ بھی ہے، چھاؤں بھی

اور میں واقف نہیں ہوں چھاؤں سے

اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

 اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں

وہ مجھے آواز دے گا کس طرح

نام تو میں نے بتایا ہی نہیں

میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا

وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں

نصیب خاک پہ کب اہل یاریاں اتریں

 نصیبِ خاک پہ کب اہلِ یاریاں اُتریں

فقیر کی نِگہ میں وہ سواریاں اتریں

ہوا ہے سر پہ غرورِ حشم کا بوجھ کتنا

دلوں پہ عدل کی کب باریاں اتریں

خریدا جا رہا ہے خواب اور خوشبوئے زر

کہاں فقیروں پہ یہ بارگاہیاں اتریں

خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں اتر جائے گا

 خار چھُونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا

"مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا"

تُو سِتم ڈھا کے بھی افسوس کرے گا مجھ سے

جو مِرے دل پہ لگا زخم ہے بھر جائے گا؟

یہ بتا ساتھ مِرے رختِ سفر باندھے گا؟

یا کہ منزل کے تصور سے ہی ڈر جائے گا

Friday, 22 May 2026

وقت رخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے

 وقتِ رُخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے

کُھل گئی آنکھ مگر خواب کا ڈر باقی ہے

مِل گئے یوں تو ہمیں پھر در و دیوار نئے

گھر کے لُٹ جانے کا احساس مگر باقی ہے

کیسے ٹوٹے گا تِرے چاہے سے رشتہ دل کا

جب تلک تیغ ہے تیری، مِرا سر باقی ہے

کب عہد وفا ہو گا اے جان وفا جاناں

 کب عہدِ وفا ہو گا اے جانِ وفا جاناں 

کب برسے گی شانوں پہ زُلفوں کی گھٹا جاناں 

اُمید کے زِنداں سے کب خواب رِہا ہوں گے 

اُترے گا خلاؤں سے کب رزقِ بقاء جاناں 

مٹی مِری دھرتی کے رنگوں کو ترستی ہے 

اُبھرے گا ہتھیلی پہ کب رنگِ حِنا جاناں 

جب میں دل کا حساب لکھتا ہوں

 جب میں دل کا حساب لِکھتا ہوں

غم کو اپنے گُلاب لکھتا ہوں

کوئی اُمید جب نہیں ہوتی

خُود کے خط کا جواب لکھتا ہوں

اتنا مایوس اس نے کر ڈالا

اس کا جلوہ حجاب لکھتا ہوں

اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو

 اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو

مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو

یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے

اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو

چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم

تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو

ترے بدن کو ہوا چھو کے جب بھی آتی ہے

 تِرے بدن کو ہوا چھُو کے جب بھی آتی ہے

غزل کا کوئی حسیں شعر گُنگناتی ہے

زمیں ترانۂ دوزخ ابھی بھی گاتی ہے

نئی صدی ہے کہ شہنائیاں بجاتی ہے

یہ اور میرے ارادوں کو پُختہ کر دے گی

جو برق میرے نشیمن پہ دندناتی ہے

Thursday, 21 May 2026

نظر نظر اذیتیں معاملے عذاب کے

 نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے

حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے

کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا

ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے

نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے

گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

 آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم

مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں

قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم

مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے

کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم

فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں ملتا نہ تھا

 فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں مِلتا نہ تھا

شہر کے لوگوں سے اس کا تب کوئی رشتہ نہ تھا

وہ بکھر جاتا تھا ہر سُو ایک خُوشبو کی طرح

میں جُدائی کے شجر پر اس طرح جلتا نہ تھا

زخم کب کے بھر چکے ہیں اس کی یادوں کے مگر

میں لِپٹ کر اس طرح خُود سے کبھی روتا نہ تھا

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

 یہ بھُوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

بہت ہُشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں

نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے

کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں

عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے

یہ داغ دل ترے رخ کا جواب ہو نہ سکا

 یہ داغ دل تِرے رُخ کا جواب ہو نہ سکا

چراغ لاکھ جلا،۔ آفتاب ہو نہ سکا

ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں

مِری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا

کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر

لہو میں ڈُوب کے کانٹا گُلاب ہو نہ سکا

خیال صبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

 خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں

کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے

تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں

مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم

گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں

Wednesday, 20 May 2026

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا

 ہوش میں آ کہ بے خبر دورِ جنوں گُزر گیا

وہ نہ اب اس کی رہگزر دور جنوں گزر گیا

کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام

شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا

شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے

گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا

درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا

 درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا

اور وہ آنسو  مِری رات کا جگنو ہو گا💔

کیا خبر تھی کہ صبا کا وہ سبک رو جھونکا

مجھ تلک آئے گا تو آگ بھری لُو ہو گا

میری آنکھوں میں سمٹ جائے تو وہ جسم گُلاب

مِری سانسوں میں بکھر جائے تو خُوشبو ہو گا

ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر

 ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر

اب میں زندہ ہو گیا ہوں

ایک میں ہی نہیں

یہاں میرے ارد گرد

اور بہت سے

کئی بار

میرے لفظوں سے میری تحریروں سے کیا ہونا ہے

 میرے لفظوں سے

میری تحریروں سے

کیا ہونا ہے؟ کُچھ بھی نہیں

ان نظموں میں

ان ساری کتابوں میں

ان باتوں میں کیا ہے؟

عمر رفتہ کا یہ خلاصہ ہے

 عُمرِ رفتہ کا یہ خلاصہ ہے

زِندگانی فقط تماشہ ہے 

آج کا ڈُوبتا ہوا یہ دن

ہجر کی عمر میں اضافہ ہے 

کیا بتاؤں میں اس کے بارے میں 

خوبصورت وہ بے تحاشہ ہے 

رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے

 رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے

پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹

آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے

شاخ صندل کی جلاؤں کیسے

روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے

یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے

Tuesday, 19 May 2026

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

 کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے

کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے

کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے

اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں

مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے

جن دوستوں میں جوہر ایثار ہی نہ ہو

یہ وہ جہاں نہیں جہاں آزار ہی نہ ہو

گلزار کون ہے وہ جہاں خار ہی نہ ہو

اچھا ہے ان سے کوئی سروکار ہی نہ ہو

جن دوستوں میں جوہر ایثار ہی نہ ہو

اس بزم شب کے حشر پہ روتا ہے وقت بھی

جو انقلاب دہر سے بیدار ہی نہ ہو

یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی

 یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی 

دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی 

ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے

باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی

دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے

"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"

دنیا کی محبت میں ملا کچھ بھی نہیں ہے

 دنیا کی محبت میں مِلا کچھ بھی نہیں ہے

دو روز کی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

کہتے تھے کہ ہم بچھڑے تو مر جائیں گے دونوں

بچھڑے ہیں تو دونوں کو ہوا کچھ بھی نہیں ہے

انصاف کا پیمانہ تو ہے زندہ ضمیری ⚖

بے حِس ہوں تو پھر اچھا بُرا کچھ بھی نہیں ہے

وہ چشم فسوں کار تماشائی ہو جیسے

 وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے

لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے

یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں

اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے

گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ

خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے

Monday, 18 May 2026

خواب تلاشی یہ عکس کیا ہے کہاں سے آیا ہے

 خواب تلاشی


وہ میری آنکھوں میں

بھاری جُوتوں سمیت آ کر

یہ پُوچھتے ہیں

یہ عکس کیا ہے

کہاں سے آیا ہے

کیسے منظر سے

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

 اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں

اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے

کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں

باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

 ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

تم کرو مشقِ سِتم خیر تمہیں کیا اس سے

صُبحِ نو اب ہے شبِ غم میں بدلنے والی

پھر نہ مِل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے

یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر

کتنے رُسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے

یارو خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا

یارو خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا

انساں جسے بنایا تھا حیوان ہو گیا

بھیجا تھا اس کو امن کی خاطر جہان میں

کیسے خلاف امن کے انسان ہو گیا

شیطان کا بھی شرم سے دیکھو جھکا ہے سر

انسان خود ہی آج تو شیطان ہو گیا

دل لگانے کی بھول تھے پہلے

 دل لگانے کی بھول تھے پہلے

اب جو پتھر ہیں پھول تھے پہلے

مدتوں بعد وہ ہوا قائل

ہم اسے کب قبول تھے پہلے

اس سے مل کر ہوئے ہیں کارآمد

چاند تارے فضول تھے پہلے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

 تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے

غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو

صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے

تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں

ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے

قلب نمرود میں ہے شعلۂ سوزاں پیدا

 قلبِ نمرود میں ہے شعلۂ سوزاں پیدا 

ہونے والا ہے کوئی بندۂ یزداں پیدا 

ننگِ پروانہ مزاجی ہے یہ شعلہ طلبی 

دل کے ہر داغ سے کر شمعِ فروزاں پیدا 

کیا ملائے گی فروغِ دلِ مومن سے نگاہ 

وہ سحر جس سے ہوئی شامِ غریباں پیدا 

بیتاب ہیں امید کے خوشرنگ پرندے

 دلاسہ


بے تاب ہیں امید کے خوشرنگ پرندے 

آ جاؤ ناں آ جاؤ ناں آ جاؤ بھی اب تم

افسوس 

میری صدا تم تک نہیں پہنچتی

ورنہ تم ضرور لبیک کہتے 

Sunday, 17 May 2026

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو

یا نہیں اس پر تصدّق اپنا جسم و جاں کرو

کاں تلک خاطر رکھو گے آرزو میں تنگ کر

غُنچۂ دل بادِ صبا سُوں عشق کے خنداں کرو

خانۂ دل 💕 کو رکھو آباد حق کی یاد سُوں

عشق کی آتش سُوں تن کو جال کر ویراں کرو

اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تو

 موت


اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تُو

سب سے بڑھ کر ہے زمانے میں بلا انگیز تُو

چھیننا بچوں کا ماؤں سے تجھے مرغوب ہے

خاتمہ ہستی کا میری کس لیے مطلوب ہے

گُلشنِ ہستی ہے تیرے ہاتھ سے وقفِ خزاں

چند دن کی میہماں ہے یہ بہارِ بُوستاں

تری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

 اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں

تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر

ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں

ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی

میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں

کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھول جاتا ہے

 کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھُول جاتا ہے

کوئی کتنا ہی پیارا ہو زمانہ بھول جاتا ہے

کسی دن بے نیازی اس کی مجھ کو مار ڈالے گی

خفا کرتا ہے وہ لیکن منانا بھول جاتا ہے

رُخ روشن پہ زُلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے

اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے

وجود پاک ہے کتنا محبت آفرین تیرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وجودِ پاکﷺ ہے کتنا محبت آفرین تیرا

نہیں ثانی کوئی اے رحمۃ اللعالمینﷺ تیرا

ذرا اس اتحادِ حسن و الفت کو کوئی دیکھے

تو کعبے کو مکیں کا اور کعبے کا مکیں تیرا

تصور تیرا جنت ہے، محبت تیری بخشش ہے

یہ رتبہ اور یہ درجہ شفیع المذنبیںﷺ تیرا

جب تلک وہ نظر نہیں آتا

 جب تلک وہ نظر نہیں آتا

درد دل کا ابھر نہیں آتا

جس کے حصہ میں ہوں سفرنامے

اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا

یہ محبت کی ایک خوبی ہے

عیب کوئی نظر نہیں آتا

درد جو دل میں ہے چھپانا ہے

 درد جو دل میں ہے چُھپانا ہے

چشمِ پُر نم کو آزمانا ہے

حسرتیں ہیں دُھواں دُھواں ہر سُو

خواہشوں کو مگر بچانا ہے

اپنی پلکوں کو باندھ کر رکھیے

قیمتی سا یہاں خزانہ ہے

Saturday, 16 May 2026

اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

 اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے

میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا

آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے

ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں

دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے

عجیب یہ جہان ہے عجیب یہ حیات ہے

 عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے

نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے

لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو

وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے

تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی

جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے

نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے

 نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ  آسماں مجھ سے 

میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے

وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا 

فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے

عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی

یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے

کبھی کبھی تری چاہت پہ یہ گماں گزرا

 کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا 

کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا 

چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی 

تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا 

جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی 

مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا 

مرے سامنے جو صلیب ہے

 مِرے سامنے جو صلِیب ہے

وہ صلیب میرا نصیب ہے

جسے زندگی کی طلب نہیں

وہی زندگی کے قریب ہے

اسے غم ملیں یا ملے خوشی

یہ تو آدمی کا نصیب ہے

دیدۂ اشک بار نے مارا

 دیدۂ اشکبار نے مارا

آہِ بے اختیار نے مارا

دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو

ایک جانِ بہار نے مارا

خُلد کی حُسن کاریاں توبہ

رُوئے رنگینِ یار نے مارا

عادتاً مایوس اب تو شام ہے

 عادتاً مایُوس اب تو شام ہے

ہِجر تو بس مُفت ہی بدنام ہے

آج پھر دُھندلا گیا میرا خیال

آج پھر الفاظ میں کُہرام ہے

الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس

رات کو اب چین ہے آرام ہے

Friday, 15 May 2026

شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا

 شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا

دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗

سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا

کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا

تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی

 نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا

اے کہ ترے وجود پر خالق دو جہاں کو ناز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

رفعتِ شانِ احمدیﷺ

اے کہ تِرے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز 

اے کہ تِرا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات 

اے کہ تِرا سرِ نیاز حدِ کمالِ بندگی 

اے کہ تِرا مقامِ عشق قربِ تمام عین ذات 

اے کہ تِری زبان سے ربِ قدیر گلفشاں

وحئ خدائے لم یزل تھی تِری ایک ایک بات

اے کہ تُو فخرِ آدمی، واقفِ سرِّ عالمی

لوح و قلم س بے نیاز تیرے علوم شش جہات

تِرے بیاں سے کھل گئیں تِرے عمل سے حل ہوئیں

منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات 

خوگرِ بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے 

مالکِ مصر و کاشغر، وارثِ دجلہ و فرات 

مجھ سے بیاں ہو کس طرح رفعتِ شانِ احمدیﷺ

تنگ مِرے تصورات، پست مِرے تخیلات

 

نواب بہادر یار جنگ

اصل نام؛ محمد بہادر خان

تخلص؛ خلق

جل کر غم بھی راکھ ہوا

 ساجن 

دل کی بھٹی میں 

جانے کیسا لاوا تھا 

اتنی تیز تپش تھی جس میں 

جل کر غم بھی راکھ ہوا 


نجمہ نسیم

لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

 لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

وقت مطلب قریب ہوتے ہیں

جن کو دنیا امیر کہتی ہے

دل کے بے حد غریب ہوتے ہیں

پیار اک ایسا روگ ہے جس کے

حسن والے طبیب ہوتے ہیں

ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

 ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی

میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا

کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی

بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی

بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی

خلاف مصلحت عشق چل کے دیکھیں گے

 خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے

اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے

رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا

تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے

تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں

بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے

Thursday, 14 May 2026

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

 اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو

وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا

اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو

جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے

روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو

مرا سخن سخن شاہکار ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

شُنیدِ سیدِ عالی وقارﷺ ہو جائے

زبانِ خامہ میں ایماں کی روشنائی ہے

حضورﷺ ہدیۂ یک زرنگار ہو جائے

جوازِ لکنتِ کذب و ریا رہے کیونکر

درودِ اسمِ نبیﷺ بے شمار ہو جائے

اور پتھر کی ہو جائے گی

 اور پتھر کی ہو جائے گی


درد ملے تو رو بھی لینا 

آنکھ میں ساون بو بھی لینا

دیکھ سہیلی چپ نہ رہنا 

اندر اندر دکھ نہ سہنا 

ورنہ 

گھٹ کر مر جائے گی

رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

 رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا

کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف

دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا

جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے

اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا

کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

 کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

قفس سونے کا بھی ہو آشیاں ہم کہہ نہیں سکتے

کوئی کہہ دے زباں رکھنے کا منہ میں فائدہ کیا ہے

کسی کے سامنے جب داستاں ہم کہہ نہیں سکتے

نہ جانے کیا اثر ہوتا ہے ہم پر ان کی محفل میں

یہاں کہتے ہیں ہم وہاں جو کچھ وہاں ہم کہہ نہیں سکتے

Wednesday, 13 May 2026

لوگ یہ سمجھتے ہیں بیٹیاں پرائی ہیں

 بیٹیاں پرائی ہیں


یہ عجب جہالت ہے

لوگ یہ سمجھتے ہیں 

بیٹیاں پرائی ہیں؟ 

حق انہیں نہیں دینا

بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا

کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟ 

یہ رنگ و نور کی برسات چار سو کیا ہے

 یہ رنگ و نور کی برسات چار سُو کیا ہے

یہ تُو نہیں ہے تو پھر اور رُو برُو کیا ہے

تِرے سوا دلِ ناداں کی آرزو کیا ہے

جو مل گیا ہے مجھے تُو، تو جستجو کیا ہے

قریب جا کے جو دیکھا تو ہو گیا روشن

تِرے وجود میں شامل رفُو رفُو کیا ہے

دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

 دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

ہر لمحہ اپنی جاں سے گزرتے ہو صاحبو

کیا جانے کیا ہے بات کہ ہر سمت بھیڑ میں

اپنا ہی چہرہ دیکھ کے ڈرتے ہو صاحبو

تم بھی عجیب لوگ ہو کانٹوں کی راہ سے

کیسے لہولہان گزرتے ہو صاحبو

نبی کا ذکر ہے یعنی درود لازم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیؐ کا ذکر ہے یعنی درودﷺ لازم ہے

یہاں خلوص سے لپٹا وجود لازم ہے 

یہ کوئی عام وظیفہ نہیں خدا کی قسم

نماز پڑھتے ہوئے بھی درودﷺ لازم ہے

بنا کے سیدِ لولاکﷺ کہہ دیا رب نے

ہمارے بعد نبیﷺ کا وجود لازم ہے

یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

 یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا

وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے 

آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا

غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا

میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا

لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

 لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

اس ستمگر کی پردہ داری کی

فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری

کھیت کی ہم نے آبیاری کی

رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا 

اس نے کچھ ایسے غمگساری کی

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

 نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا

کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے

تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں

کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے

Tuesday, 12 May 2026

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

 گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا

اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے

جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا

مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب

میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا

تکمیل کائنات ہے میرے نبی کی ذات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بحرِ تحیّرات ہے میرے نبیﷺ کی ذات

دکھ درد سے نجات ہے میرے نبیؐ کی ذات

جتنے بھی ان کی یاد میں لمحے گزر گئے

وہ دائمی حیات ہے میرے نبیؐ کی ذات

مل جائے گا سکوں تمہیں قلب و جگر کا یاں

تکمیلِ کائنات ہے میرے نبیؐ کی ذات

نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

 نغمۂ اسلام


نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

خوابِ غفلت سے مسلماں کو جگایا جائے گا

دیکھتی ہے خواب ہندو راج ہی کے کانگرس

خاک میں اس کے ارادوں کو ملایا جائے گا

سنگدل انگریز بھی سُن لے یہ گوشِ ہوش سے

راہ میں پتھر جو آئے گا ہٹایا جائے گا

عجیب شہر ستمگر ہے کیا کیا جائے

 عجیب شہر ستمگر ہے کیا کِیا جائے

لہو لہان کبوتر 🕊 ہے کیا کیا جائے

ٹھہر ٹھہر کے اسے پڑھ رہا ہوں میں لیکن

وہ ایک حرفِ مکرّر ہے کیا کیا جائے

بہت قریب سے مِلنے میں ڈر سا لگتا ہے

’’ہر آستین میں خنجر ہے کیا کیا جائے‘‘

دید جاناں جو عام ہو جائے

 دید جاناں جو عام ہو جائے

کارِ دنیا تمام ہو جائے

رُوٹھ جائے وہ صبح ہوتے ہی

اور منانے میں شام ہو جائے

میکدے میں نماز پڑھ لیں گے

کاش ساقی امام ہو جائے

کچھ یوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

 کچھ یُوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

بس خال و خد سے رہ گئے چہرہ چلا گیا

افسانہ میرے جہد کا اتنا سا تھا کہ میں

اندیشۂ یقین سے لڑتا چلا گیا

آیا نہیں پلٹ کے اُجالا کبھی یہاں

حالانکہ گھر سے کب کا اندھیرا چلا گیا

غزل بیمار ہوتی جا رہی ہے

 دلوں پر بار ہوتی جا رہی ہے

زباں تلوار ہوتی جا رہی ہے

ٹھہر جائے نہ نبضِ دل مِری اب

وفا لاچار ہوتی جا رہی ہے

زمیں کے مسئلوں کا حل تلاشو

زمیں آزار ہوتی جا رہی ہے

ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

ہر جا جلوہ تیرا ہی دیکھا

شاہانِ عالی کو بھی اکثر

تیرے در پر گدا ہی دیکھا

تیری کتابِ لاریب میں بھی

نورِ ہدایت رچا ہی دیکھا

Monday, 11 May 2026

یاد کشمیر کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

 یادِ کشمیر


کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

باغِ ارم کا نقشہ کھینچا ہوا یہاں ہے

چاروں طرف کھنچی ہے دیوارِ کوہ تیرے

آبِ رواں کا نقشہ ہر اک طرف رواں ہے

کب چاہتا ہے دریا جہلم یہاں سے گزرے

کشمیر حُسن اپنا کرتا جو تُو عیاں ہے

میں نے گناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

سارے جہاں کو میں نے اکٹھا نہیں کِیا

بس صبر کر لیا ہے، تماشہ نہیں کیا

دُنیا مجھے فریب تو دیتی رہی، مگر

میں نے کسی کے ساتھ بھی دھوکا نہیں کیا

اُس کو بھی میرے ساتھ عدالت میں لائیے

میں نے گُناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

 کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ

کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں

ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ

چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے

خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ

حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

 حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا

آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا

رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا

ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں

ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا

یاں ہنرور بھی خوب ملتے ہیں

 یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں

خار سے گل کے چاک سلتے ہیں

ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے

کارواں کے غبار ملتے ہیں

یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں

بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں

آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

 آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد

مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد

آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد

وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر

ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد

سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا

 سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا 

جینا کیا سیکھا، مر جانا سیکھ لیا

دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی 

بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا

کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں 

خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا

دوستی کو معتبر میں نے کیا

 تکنیک


دوستی کو معتبر میں نے کیا

حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا

کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں

جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟

جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے

اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا

Sunday, 10 May 2026

جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

 جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے

رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے

اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے

سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول

آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے

اے چارہ گر کل تو ہی مقصود ثنا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے

تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے

تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے

کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں

تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں


راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار

کیوں کر نہ کروں مدحت سلطان مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ

جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ

تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ

یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ

خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ

کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ

پھر دیکھنا منظر کیسے بدلتا ہے

 سنو گرمی بہت ہے

اے سی بھی ٹھیک کروایا

پھر بھی چل نہیں رہا

اچھا سنو

کیا تمہاری طرف آ جاؤں؟

دو دن سے سوئی نہیں

ہے عبث حسن کا غرور گھمنڈ

 ہے عبث حُسن کا غرُور گُھمنڈ

کس کا قائم رہا غرور گھمنڈ

خاک و خُوں میں مِلا دیا اس کو

جس کے سر پر چڑھا غرور گھمنڈ

خاکساری ہے شیوۂ انساں

نہیں ہرگز روا غرور گھمنڈ

وقت پھیلا گیا غبار تو پھر

 وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟

تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر

کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے

بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر

کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول

رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

 اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے

میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے

مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر

جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے

حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

Saturday, 9 May 2026

تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

 تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

جو زخم کھا کے گیا ہے پلٹ بھی سکتا ہے   

ابھی بساط بچھی،۔ ابھی غرور نہ کر   

سنبھل کے چل کہ یہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے

وہ شخص جس کا تکلم تمہیں پسند نہیں

وہ شخص سینکڑوں لہجوں میں بٹ بھی سکتا ہے

خالق کل نے بھی کی ثنائے نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خالقِ کُل نے بھی کی ثنائے نبیﷺ

رحمتِ دو جہاں بن کے آئے نبیﷺ

آپﷺ کی زیست قرآن کی تفسیر ہے

معجزے کیوں نہ ہم کو دکھائے نبیﷺ

اپنی اپنی جگہ سب نے تعظیم دی

تھے شجر اور حجر آشنائے نبیﷺ

اگر میں کھڑا ہوتا ہوں تو چھت سے ٹکراتا ہوں

 اگر میں کھڑا ہوتا ہوں

تو چھت سے ٹکراتا ہوں

اگر سیدھا ہوتا ہوں

تو دیوار سامنے آ جاتی ہے

کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے

یہیں، محدود ہو کر

چل دئیے بزم سے جانے کا اشارہ جو ہوا

 چل دئیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا

ہم سے ٹالا نہ گیا،۔ حکم تمہارا جو ہوا

تم نہ سمجھو گے جدائی کی اذیت کو ابھی

تم کو اغیار کی بانہوں کا سہارا جو ہوا

عشق میں حرفِ مُکرر کا میں قائل تو نہیں

تم ہی سے ہو گا یہ بالفرض دوبارہ جو ہوا

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

 جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب

ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن

جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب

شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا

گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب

Friday, 8 May 2026

کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

 کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو

گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر

کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو

شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی

تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو

سر پہ سرکار کی خاک کفِ پا رکھی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے

ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے

شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی

ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے

تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں

ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے

خطا کو کب اہل کرم دیکھتے ہیں

 خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں

نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں

کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں

ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں

شیشۂ ساعت کا غبار ہمیں شکست ہو گئی

 شیشۂ ساعت کا غبار


میں زندہ تھا

مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا

ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی

نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم

تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم

مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

 دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں

پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں

اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں

بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم

وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں

Thursday, 7 May 2026

موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

 موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس

عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے

نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس

اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں

کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس

جو لب پر مرے یا نبی یا نبی ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیﷺ ہے

اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے

میں کیوں دربدر جا کے دامن پساروں

نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے

انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا

نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے

زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

 زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا

پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں

پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا

میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے

عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا

بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

 بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے

تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں

اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے

ہے بہار زندگانی چند روز

 ہے بہار زندگانی چند روز

رونقِ عہدِ جوانی چند روز

رنج و غم میں زندگی ساری کٹی

پر نہ دیکھی شادمانی چند روز

جب کیے ہم پر کیے جور و ستم

کہ نہ تم نے مہربانی چند روز

کب مرا درد ہی دوا نہ ہوا

 کام کب رک کے خود روا نہ ہوا

کب مِرا درد ہی دوا نہ ہوا

اون سے سے میرا کوئی بھلا

یہ بھی سچ پوچھو تو بُرا نہ ہوا

تھا عیاں جس کی بات بات سے رحم

ظلم میں روکشِ زمانہ ہوا

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

 عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے

مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

Wednesday, 6 May 2026

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی

اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا

تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی

لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

 عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک

وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے

دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک

یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر

ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک

اے گنبد خضرا ہے تری یاد بھی کیا یاد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد

جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد

سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں

آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد

تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے

دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد

دل میں چھپائی دوسری عورت

 نظم "دل میں چُھپائی دوسری عورت" سے اقتباس


عورت ظالم ہے

وہ ظلم کرتی ہے خود کے ساتھ

بظاہر انجان لیکن

غم کا پہاڑا یاد کرتے کرتے ہر روز سسکتی ہے

اور تمام عمر نہیں بھول پاتی

خط کی ترجمانی ہے یہ غزل سناؤں گا

 خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے

یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں

تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

سر سے دوپٹے اٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی نصیحت


 سر سے دوپٹے اُٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی پگڑی گرانے کو چلی ہیں بیٹیاں

محرم و نامحرمی کی بندشیں سب توڑ کر

اجنبی محفل سجانے کو چلی ہیں بیٹیاں

عصمتیں لٹ جائیں گی پھر روئیں گی چلائیں گی

ہاتھ کچھ نہ آئے گا پھر وہ فقط پچھتائیں گی

فراق یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

 فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں

جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں

وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں

کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو

جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں

جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا

 جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا

دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا

صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی 

بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی

قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی 

لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی

طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں

کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے

آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں

ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں

ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں

رنگ چہرے پہ گھلا ہو جیسے

 رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے

آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے

یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں

شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے

ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب

زندگی کوئی خطا ہو جیسے

Tuesday, 5 May 2026

گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

 گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے

گھڑ لیے لوگوں نے افسانے

ہم نے تو بس آہ بھری ہے

کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا

درد سری ہے، دربدری ہے

بشر دشمن بشر کا ہو گیا ہے

 بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے

خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے

خبر شہرِ سبا سے کون لائے

کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے

نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم

کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے

قید تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

 قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں

شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے

🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷

ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید

غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں

کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرور سے

 کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرُور سے

تِرے زاویے پہ ہی گُھومتا ہوا آ گیا کوئی دُور سے

تجھے اتنے پاس سے دیکھ لے کوئی اہل ہے نہ یہ سہل ہے

کبھی جسم گُھلتا ہے آگ میں، کبھی آنکھ جلتی ہے نُور سے

مجھے کوئی فکرِ فنا بھی کیا، میں تو جانتا ہوں بقا ہے کیا

تجھے ڈُھونڈنے سے نہیں ملا میں نے پا لیا ہے شعُور سے

مجھ کو کمزور نہ سمجھا جائے

نہیں پروا کوئی زمانے کی

کون کیا سوچتا ہے کس کے لیے

مقصد زیست کامیابی ہے

وقت کیا چاہتا ہے کس کے لیے

صنف نازک ہوں یوں تو کہنے کو

حوصلے ہیں چٹان کے مانند

ہوئی ہے اگر ابتدا مختلف

 ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف

نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف

کئی راستے تھے مرے سامنے

چُنا میں نے اک راستہ مختلف

میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں

بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف

پیش پا افتادگی میں کو بہ کو کیا دیکھتے

 پیشِ پا اُفتادگی میں کُو بہ کُو کیا دیکھتے

کون تھا کس سمت محوِ جستجو کیا دیکھتے

آمد آئینہ رو سے یہ سبھی مے خوارِ نو

گر رہے ہیں ہاتھ سے سب کے سبو‘ کیا دیکھتے

ہو رہا ہے کیا ہجوم بے طرح سے ارد گرد

جو بھی تھے شیریں سخن کے روبرو کیا دیکھتے

Monday, 4 May 2026

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر

 حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر

نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر

خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد

کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر

تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل

کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر

کچھ گیت جو تو نے لکھے ہیں

 سنتوش آنند جی کے لیے ایک نظم


دور کہیں ویرانے میں

اک کچے گھر کی کھڑکی کھلتی ہے

اور شام ڈھلے سہمے پیڑوں کو وہ ایک گیت سناتی ہے

جو تو نے لکھا ہے

اک بوڑھا جس نے راتوں میں چاند کی ساری شکلیں دیکھی ہیں

والضحیٰ تفسیر روئے مصطفیٰ

(فارسی) عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

نذرِ بارگاہِ رسالتﷺ


والضحیٰ تفسیر رُوئے مصطفیٰﷺ

ہست واللیل عکسِ مُوئے مصطفیٰﷺ

کرد روشن تیرہ دانِ قلب 💓را

شمعِ داغِ عشق رُوئے مصطفیٰﷺ

آستانِ اُوست سجدہ گاہِ خلق

کعبہ کعبہ است کُوئے مصطفیٰﷺ

یہ زلیخا مزاج روح مری

 یہ زلیخا مزاج رُوح مِری

وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی

آج تہمت نئی لگی مجھ پر

آج حُجرے میں روشنی ہو گی

دل طوافِ حبیب میں گُم ہے

رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی

میری غزلوں میں جو روانی ہے

 میری غزلوں میں جو روانی ہے

شرحِ غم ہائے زندگانی ہے

جو ملا ہے مجھے شعورِ سخن

اک ستمگر کی مہربانی ہے

تم نہیں، تو نہیں اور آپ نہیں

اک مخاطب پسِ معانی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

Sunday, 3 May 2026

قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

 قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے

اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی

دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے

رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا

کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

 ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے 

بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے 

نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے 

جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے 

ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا 

یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے 

تو حسن کا پیکر ہے تو رعنائی کی تصویر اے وادئ کشمیر

 اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر


تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر

مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر

رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر

تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پائیں ضیا ادھر ہو اگر جان جاں کا رُخ

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

بستر کی سلوٹیں نہ گئیں اتنی دیر میں

لوٹ آئے کر کے میرے نبیؐ لامکاں کا رخ

خوش ہوں بہت نصیب کی کلیاں کھلی ہیں آج

دل نے کیا ہے آج تِرے گلستاں کا رخ

کالی لمبی راتیں چاند اور تیری باتیں

 کالی لمبی راتیں

چاند اور تیری باتیں

کِواڑوں سے جھانکتی یادیں

گہری اُلجھی سوچیں

سرہانوں کی سرگوشیاں

اور خاموش سِسکیاں

عہد فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

 اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

بہتے پانی پہ اک لکیر بنا

صرف خیرات حرف و صوت کی دے

شہر فن کا مجھے امیر بنا

شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے

گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا

دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

 دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے

جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست

آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے

آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن

ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے

Saturday, 2 May 2026

وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

 سیاست


وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال

اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج

دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال

اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں

دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال

ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

 ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

مان لی ہار اور کیا کرتے

اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ

اس سے تکرار اور کیا کرتے

پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی

پیشِ دیوار اور کیا کرتے

ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

 ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا

نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے

غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر

وہی دل میں سموتا جا رہا ہے

جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جشن آمد رسولﷺ اللہ ہی اللہ

بی بی آمنہؑ کے پھول اللہ ہی اللہ


جب کہ سرکارﷺ تشریف لانے لگے

حُور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے

ہر طرف نُور کی روشنی چھا گئی

مصطفیٰﷺ کیا ملے زندگی مل گئی

غم ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

 غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے

ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی

کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے

یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت

کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے

کمتر نہیں مقام مرا آفتاب سے

 کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے

"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"

ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس

توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے

وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ

پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے

مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

 مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور

تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی

لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور

پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے

میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور

Friday, 1 May 2026

بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا

 بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا

یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا

قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے

اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا

میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے

تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا

خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

 خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے

اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر

مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے

وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے

کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے

ہماری آرزو تم ہو ہمارا مدعا تم ہو

 پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو

جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو

سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو

میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو

خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے

خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو

تری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

 زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں

تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

حقیقت جان لی ہے تیری جب سے

تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں

کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو

مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں

بلاوے بارہا آئے ہیں

 بُلاوے

بارہا آئے ہیں

آوازوں کے ساحل سے

مگر میں

یخ بستہ کشتی کی طرح

گُم سُم پڑا ہوں

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے

 اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی دروازہ کھلے

ہر طرف درد کے لمبے سائے

راستے پھیل گئے دور گئے

دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز


اجنبی راہگزر سوچتی ہے