صفحات

Tuesday, 5 May 2026

پیش پا افتادگی میں کو بہ کو کیا دیکھتے

 پیشِ پا اُفتادگی میں کُو بہ کُو کیا دیکھتے

کون تھا کس سمت محوِ جستجو کیا دیکھتے

آمد آئینہ رو سے یہ سبھی مے خوارِ نو

گر رہے ہیں ہاتھ سے سب کے سبو‘ کیا دیکھتے

ہو رہا ہے کیا ہجوم بے طرح سے ارد گرد

جو بھی تھے شیریں سخن کے روبرو کیا دیکھتے

ہم فقط کرتے رہے پورے تِری آنکھوں کے خواب

اپنی خواہش، اپنی ہر اک آرزو کیا دیکھتے

جاں بلب تھی زندگی جب کوچۂ بیداد میں

ایسے عالم میں متاعِ آبرو کیا دیکھتے

دوست بھی شہباز چشمِ تر تھے، ایسے حال میں

میری آنکھوں میں یہ بہتی آبجُو کیا دیکھتے


شہباز راجہ

No comments:

Post a Comment