صفحات

Monday, 4 May 2026

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر

 حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر

نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر

خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد

کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر

تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل

کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر

جلوہ فرما کون مہر و ماہ کے پردے میں ہے

رقص کرتا ہے نظام دہر کس کے ساز پر

بال و پر سے کب کوئی پہنچا فراز عرش تک

یہ سعادت منحصر ہے ہمت پرواز پر

آ گئی صحن چمن میں فصل گل تو کیا ہوا

ہیں وہی غم کے ترانے زندگی کے ساز پر

راز الفت غیر سے کہنا ہے ننگ عاشقی

ناز تھا منصور کو کیوں انکشافِ راز پر

عشق کی قسمت میں ہوتے ہیں صلیب و دار بھی

شاد اے صابر! نہ ہو تُو لذتِ آغاز پر


صابر ابوہری

No comments:

Post a Comment